خطبات محمود (جلد 25) — Page 430
1944ء 430 خطبات محمود ور نہ یا تم مجھ کو سمجھا دو کہ میں غلط راستہ پر ہوں اور یا تم سمجھ جاؤ کہ تم غلط راستے پر جا رہے ہو۔ اس عزم اور ارادہ سے اگر ساری جماعت کھڑی ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں ابھی ایک سال بھی ختم نہیں ہو گا کہ ہماری ہندوستان کی جماعت میں صرف احمدیوں کے رشتہ داروں کے ذریعہ ہی ایک لاکھ آدمی بڑھ جائیں گے۔ سوال صرف ہمت کا ہے۔ اگر لوگ ہمت کریں اور اس ارادہ کو پورا کرنے کے لیے عملی قدم اٹھائیں تو بہت جلد اس کے نیک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی اس اہم ذمہ داری کو سمجھے اور اپنے اندر چیستی اور بیداری پیدا کر کے تبلیغ احمدیت کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائے ورنہ نہایت ہی خطرناک ایام قریب آرہے ہیں۔ جیسے عذاب کی آندھی اٹھتی ہے تو ڈور سے اُس کی سُرخی نظر آتی ہے جسے دیکھتے ہی دل کانپ اٹھتے ہیں اسی طرح کی سرخی میں بھی فضا میں دیکھ رہا ہوں۔ اور وہ دن مجھے قریب آتے نظر آرہے ہیں جب ہندوستان اپنی راہنمائی کا حق کھو بیٹھے گا کیونکہ بیرونی ممالک میں احمدی زیادہ ہو جائیں گے اور ہندوستان میں کم ہو جائیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اِس نہایت ہی نازک موقع پر ہماری راہنمائی کرے گا۔ مگر ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم وقت پر بیدار ہو جائیں، مستقبل کے آثار کو پہچان لیں اور اُن کے مطابق اپنے اندر تغیر پیدا الفضل 6 جولائی 1944ء) کرنے کی کوشش کریں"۔ 1 : سیرت ابن ہشام جلد 463 ،464 مطبوعہ القاہرہ مصر 1964ء 2 : بخاری کتاب مناقب الانصار باب قصة أبي طالب