خطبات محمود (جلد 25) — Page 412
1944ء 412 خطبات محمود پس اگر کوئی مدعی پہلے نبی کے قائم کردہ امور کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے آتا ہے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ اُس تسلسل کو قائم رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر ان کاموں کو پورا کرتا ہے اور اُس کی جماعت کو ساتھ لے کر اُسے ترقی کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اُسے مان لیں گے۔ لیکن اگر وہ نیاد عوامی پیش کرتا ہے اور نیا رستہ اختیار کرتا ہے تو ہم اُس سے پوچھیں گے کہ وہ کیا نئی چیز ہے جو تم خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے ہو اور جو پہلے موجود نہ تھی۔ یعنی جو پچھلا نبی آیا ہے اُس کے ذریعہ لوگوں کو نہ ملی۔ یہ دونوں باتیں ضروری طور پر ایسے نکتے وجودوں کی حقیقت ظاہر کر دیتی ہیں اور کوئی سمجھدار انسان ان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ مگر ساری دقتیں دینی علم نہ ہونے اور عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔ جب کبھی پر بھیڑے 1 کی طرح ایسے لوگ کھڑے ہوتے ہیں تو کچھ بیوقوف انہیں ایسے مل جاتے ہیں جو اُن کو کھمب سمجھ لیتے ہیں۔ تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جو جھوٹے مدعی کھڑے ہوئے زمانہ وہ کچھ نہ کچھ تعلیمیں بھی پیش کرتے تھے۔ خواہ وہ تعلیمیں کیسی ہی بے ہودہ ہوتی تھیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دعوی پیش کرنے کے بعد اس بات کا مطالبہ ہو گا کہ تم لائے کیا ہو۔ لیکن آجکل مصیبت یہ ہے کہ نہ تو نئی شریعت لانے کا دعوی کیا جاتا ہے، نہ پرانی شریعت کی تفصیلات پر نئی روشنی ڈالنے کا جس کے بغیر ایمان اور عمل لوگوں کا ناقص تھا۔ نہ سابقہ نبی کی تعلیم کا تسلسل قائم رکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ بلکہ صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ خدا نے ہمارا یہ نام رکھ دیا ہے۔ اس پر جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے نام کے ڈر کی وجہ سے یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ غور کے قابل بات ہے حالانکہ وہ بات قابلِ غور نہیں ہوتی بلکہ ان لوگوں کی حالت قابلِ غور ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے اس قسم کا مدعی کیوں بھیجا ہے اور اس کی ضرورت کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سینکڑوں اور ہزاروں مسائل میں اتنی اصلاح کی کہ عام لوگ کہنے لگ گئے کہ آپ کوئی نیا دین لائے ہیں۔ حالانکہ آپ کوئی نیا دین نہیں لائے تھے۔ بلکہ لوگ اصل دین کی سب باتیں چونکہ بھول چکے تھے یا اُن کو بگاڑ چکے تھے۔ اس لیے جب وہی باتیں اصل صورت میں اُن کے سامنے