خطبات محمود (جلد 25) — Page 403
$1944 403 خطبات محمود قوم میں علم پیدا کرنا اتنا مشکل کام ہے کہ جس کے لیے بڑی جدوجہد اور کوشش کی ضرورت ہے۔ہندوستان کا تمدن، ہندوستان کی زبان اور ہندوستان کا علم چونکہ بالکل الگ ہے اس لیے سب کچھ نئے سرے سے سکھانا اور پڑھانا پڑتا ہے۔اس وجہ سے جہاں یہ کام بہت بڑا اور بہت مشکل ہے وہاں عربی نہ جانے کی وجہ سے بعض لوگوں کو کئی رنگ میں ٹھوکریں بھی لگ جاتی ہیں اور اسی وجہ سے ہماری جماعت کے بعض لوگ اتنے لمبے عرصہ میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ در حقیقت مامور اور نبی ایک ہی ہوتا ہے۔پیغامی اسی بات سے ٹھو کر کھا گئے۔انہوں نے مامور اور نبی کو الگ الگ سمجھ لیا۔حالانکہ نبی اور مامور ایک ہی ہوتا ہے۔جسے خدا تعالیٰ امر دے کر لوگوں کی اصلاح کے لیے کھڑا کرے وہی نبی، وہی رسول اور وہی مامور ہوتا ہے۔ان میں فرق کرنے کی وجہ سے لوگوں کو دھوکا لگ جاتا ہے۔اور میں دیکھتا ہوں عجیب لطیفہ یہ ہے کہ یہ بات نہ سمجھنے کی وجہ سے ایسے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم مامور ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نبوت کا دروازہ بند سمجھتے ہیں۔حالانکہ مامور اور نبی ایک ہی ہو تا ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص نبی ہو مگر مامور نہ ہو۔یا نبی نہ ہو اور مامور ہو۔جسے خدا تعالی لوگوں کی اصلاح کے لیے حکم دے کر کھڑا کرتا ہے وہی مامور ہوتا ہے اور اُسی کو نبی کہا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ جب ایک بندہ کو یہ حکم دے کر بھیجتا ہے کہ جاؤ جا کر لوگوں سے میرے احکام منواؤ تو لوگوں کے لیے بھی اُس کا یہ حکم ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتا ہے ہماری طرف سے کہتا ہے۔تمہارا فرض ہے کہ اسے مانو۔مگر کتنا تعجب ہے اس عقیدہ پر کہ گویا خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے یہ تو کہتا ہے کہ تم میری طرف سے مامور ہو اور تمہارا کام یہ ہے کہ لوگوں سے جاکر میرے احکام منواؤ۔مگر لوگوں کے متعلق اُس کا یہ فیصلہ ہے کہ تم اسے مانو یا نہ میں مانو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔یہ کتنی صاف اور واضح بات ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی ایسا نہیں ہے کر سکتا۔مگر عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے کئی لوگ اِس بات کے سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔یعنی جسے مامور قرار دیتے ہیں اُس کے متعلق خیال کر لیتے ہیں کہ اُس کا نبی اور رسول ہونا ضروری نہیں ہے اور اُس کی بات کا مانا سب پر فرض نہیں ہے۔حالانکہ کوئی نبی لوگوں کو خدا تعالیٰ کی کوئی خبر دے گا کس طرح، جب تک کہ خدا تعالیٰ اُسے بھیجے گا نہیں۔اور جب و۔