خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 382

1944ء 382 خطبات محمود قتل کیے جانے کا حکم دیا تھا اُن میں ایک ہندہ بھی تھی۔ کیونکہ اُس نے لوگوں کو روپے دے دے کر کئی مسلمان مروا ڈالے تھے۔ مگر ہندہ بڑی ہوشیار عورت تھی۔ اُسے جب اِس حکم کا علم ہوا تو اُس نے چادر اوڑھ لی اور عورتوں کے ساتھ مل کر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آئی تھیں آپؐ کی بیعت کرنی شروع کر دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ ان عورتوں میں ہندہ بھی بیٹھی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے لیتے اس مقام پر پہنچے کہ تم اقرار کرو ہم کبھی شرک نہیں کریں گی تو ہندہ سے نہ رہا گیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! کیا اب بھی آپ سمجھتے ہیں ہم شرک میں گرفتار رہیں گی ؟ ساری قوم ہمارے ساتھ تھی اور آپؐ اکیلے تھے ، ہمارے پاس دولت تھی لیکن آپ کے پاس دولت نہ تھی ، ہمارے پاس جتھا تھا لیکن آپ کے پاس جتھا نہ تھا، ہمارے پاس سپاہی تھے لیکن آپ کے پاس کوئی سپاہی نہ تھے پھر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے ساتھ ہمارے مثبت ہیں جو ہمارے خدا ہیں لیکن آپ کے ساتھ کوئی خدا نہیں۔ گویا ہم اپنے آپ کو خدا والا اور آپ کو خدا کی مدد سے محروم قرار دیتے تھے۔ ہم سب نے آپؐ کا مقابلہ کیا اور متواتر اور مسلسل مقابلہ کیا۔ مگر یا رسول اللہ ! ہر میدان میں آپؐ نے ہمیں پیٹا ، ہر میدان میں آپ نے ہمیں لتاڑا، ہر میدان میں ہمیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ آپ ایک سے سے دو اور دو د سے سے چار چار اور اور چار سے دس، دس سے سو اور سو سے سے ہزار ہزار اور ہزار سے دس ہزار ہوئے اور ہم دس ہزار سے چار ہزار چار ہزار سے دو ہزار، دو ہزار سے ایک ہزار اور ایک ہزار سے چند سو ہوئے اور پھر آخر میں یہاں تک ذلیل اور خوار ہوئے کہ اب ہمیں ندامت اور شرمندگی کے ساتھ آپ کے پاس آنا پڑا۔ یا رسول اللہ ! کیا اب بھی ہمارے دل میں اسلام کی صداقت کے متعلق کوئی شبہ رہ سکتا ہے اور کیا اب بھی ہمیں بتوں کی طاقت کا کوئی یقین ہو سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہندہ ہے ؟ اُس نے کہا یا رسول اللہ ! ہندہ تو ہوں مگر مسلمان ہندہ ہوں، کافر ہندہ نہیں ۔ اب میں کلمہ پڑھ چکی ہوں اور آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب سن کر مسکرائے اور خاموش ہو گئے ۔7