خطبات محمود (جلد 25) — Page 376
$1944 376 خطبات محمود دوسرا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ بے نیاز ہو جائے سارے تعلقات سے ، وہ بے نیاز ہو جائے سارے رشتہ داروں سے، وہ بے نیاز ہو جائے ساری محبتوں سے۔اور ایک ہی مقصود اس کے سامنے رہ جائے کہ میں نے اسلام کے لیے اپنی جان دینی ہے، میں نے قرآن کے لیے اپنی جان دینی ہے، میں نے احمدیت کے لیے اپنی جان دینی ہے۔جس وقت یہ روح جماعت میں پیدا ہو جائے گی اُس وقت اور صرف اُس وقت ہماری جماعت کامیاب ہو گی۔اور گو اس وقت میں ہم تھوڑے ہیں، گو ہم ذلیل اور حقیر سمجھے جاتے ہیں، گو ادنیٰ سے ادنی اقوام ہمیں آنکھیں دکھانے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔وہ مسلمان جو سکھوں کی گھر کیوں سے ڈر جاتے ہیں، وہ مسلمان جو ہندوؤں کی گھر کیوں سے ڈر جاتے ہیں۔وہ مسلمان جو عیسائیوں کی گھر کیوں سے ڈر جاتے ہیں، وہ بھی ہمیں غصہ سے لال لال آنکھیں نکال کر دکھاتے ہیں۔اور وہ حکومت جو سکھوں سے ڈر جاتی ہے ، وہ حکومت جو ہندؤوں سے ڈر جاتی ہے وہ بھی اپنے سارے ایکٹ قادیان کے احمدیوں کو ستانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔لیکن اگر یہ روح ہماری جماعت اپنے اندر پیدا کر لے تو نہ ہندو اُسے ڈرا سکتے ہیں، نہ سکھ اُسے ڈرا سکتے ہیں، نہ مسلمان اُسے ڈرا سکتے ہیں، نہ ہندوستان کے انگریز اسے ڈرا سکتے ہیں، نہ برطانیہ کے انگریز اسے ڈرا سکتے ہیں، نہ دنیا کی ہے کوئی اور قوم اسے ڈرا سکتی ہے۔کیونکہ یہ روح قوموں کو ایسی زندگی بخشتی ہے، ایسی طاقت بخشتی ہیں ہے، ایسی مضبوطی بخشتی ہے کہ دنیا کی کوئی تلوار اس کو کاٹ نہیں سکتی۔دنیا کی کوئی توپ اس کو ہے مٹا نہیں سکتی۔جو شخص خدا کی خاطر مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اس کو مارنے والا وجود آج تک دنیا میں پیدا نہیں ہوا اور قیامت تک پیدا نہیں ہو سکتا۔دوسری دو چیزیں جن کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کالج اور سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام ہے۔میں پہلے بھی جماعت کو کالج کی طرف توجہ دلا چکا ہوں۔مگر میں دیکھتا ہوں ابھی تک اس طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔جہاں تک کالج میں تعلیم حاصل ہے کرنے کے لیے لڑکوں کی طرف سے درخواستیں آنے کا سوال ہے وہ بھی ابھی توجہ طلب ہے۔اور جہاں تک کالج کے لیے روپیہ کا سوال ہے وہ بھی ابھی بہت کم جمع ہوا ہے۔آخری می رپورٹ نظارت بیت المال کی طرف سے اس بارہ میں یہ تھی کہ بیاسی ہزار روپیہ کی رقوم میں