خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 375

خطبات محمود 375 $1944 نوسو ننانوے دفعہ یہ امکان نہیں تھا کہ جہاز ڈوب جائے اور فوج تباہ ہو جائے ؟ اگر نو سو ننانوے دفعہ یہ امکان تھا تو اُس کا ایک دفعہ کامیاب ہو جانا صرف اتفاق کہلائے گا اور یہی کہنا پڑے گا کہ اُس نے نو سو ننانوے دفعہ اپنے ملک کو تباہ کر دیا صرف ایک دفعہ اس نے اپنے ملک کو بچایا۔مگر وہ بھی ایک اتفاقی امر تھا۔اُس کے اختیار کی بات نہیں تھی۔بہر حال اُس کا یہ فعل ایسا تھا جس کی وجہ سے نو سو ننانوے دفعہ ناکامیاں ہی پیش آسکتی تھیں۔صرف ایک دفعہ کامیابی حاصل ہوئی اور وہ بھی اتفاقی طور پر۔پس چونکہ اُس نے نو سو ننانوے دفعہ فرانس کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور صرف ایک دفعہ محسنِ اتفاق سے اپنی جان کو ہلاکت کے خطرہ میں ڈال کر اپنے ملک کو بچایا اس لیے میں نے ایک طرف تو تمہارے بھائی کو اُس کے اچھے کام کی وجہ سے فرانس کا سب سے بڑا بہادری کا انعام دے دیا اور دوسری طرف نو سو ننانوے دفعہ اُس نے اپنے ملک کو جس خطرے میں ڈالا تھا اُس کی پاداش میں اُسے گولی سے اُڑا دیا۔اگر تمہارا دل فرانس کی محبت سے خالی ہے تو میری جان کا کیا ہے۔میں نے تو دشمن کے ہاتھ سے بھی مرنا ہی ہے۔اگر تم مجھے یہیں ماردو گے تو اس میں کونسی بڑی بات ہے۔مگر یاد رکھو کہ اگر تم مجھے مارو گے تو تم مجھے نہیں مارو گے بلکہ فرانس کو مارو گے۔جب افسر نے یہ بات کہی اس کے بھائی کی من رائے بالکل بدل گئی اور اُس نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ میں غلطی پر تھا۔اب میں خطرات میں پڑکر بھی آپ کو اس مقام پر پہنچاؤں گا جہاں کوئی اور شخص آپ کو نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اس میں وقت سمندر میں طوفان ہے اور کوئی اور ملاح اس سمندر میں کشتی چلانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اُس نے ہر قسم کے طوفانی خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے افسر کو اُس کے مقام تک پہنچا دیا۔جب دنیوی قربانیوں کا یہ حال ہے تو جو شخص ایسے نازک اوقات میں جبکہ اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت خطرے میں ہے کوئی کمزوری دکھاتا یا اپنا سینہ تان کر آگے نہیں آتا اس کا اپنے متعلق یہ امید رکھنا کہ ہم اسے مسلمان سمجھیں یا خادم دین قرار دیں یا اُسے خدا اور رسول سے محبت رکھنے والا سمجھیں کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ایسے وقت میں تو ہر شخص کا فرض ہوتا ہے کہ وہ آگے آئے۔اور پھر جو شخص آگے آئے اس کا م