خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 374

1944ء 374 خطبات محمود گزر جائے گی اور یہ اس کے نیچے پس جائے گا۔ کیونکہ ایک سیکنڈ میں لڑھکنے والی توپ کو ہک کے ساتھ باندھنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ وہ مر جائے گا۔ وہ خود بھی یہی سمجھتا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ مگر اتفاق ایسا ہوا کہ وہ بچ گیا اور اُس نے اپنے ملک کی فوج کو بھی بچالیا۔ گویا وہ اتفاق جو ہزار میں سے ایک دفعہ ہی ہو سکتا تھا اُس وقت پیدا ہو گیا اور خطرہ جاتا رہا۔ جب توپ باندھی گئی تو وہی شخص جسے سپاہیوں نے مسافر سمجھا تھا کھڑا ہوا اور اُس نے بتایا کہ میں فلاں افسر ہوں۔ پھر اس نے سب سپاہیوں کو اکٹھا کیا اور کہا جس شخص سے یہ غلطی ہوئی تھی اُسے سامنے لاؤ۔ جب اُسے سامنے لایا گیا تو اُس نے فرانس کا سب سے بڑا بہادری کا تمغہ اُس کے سینہ پر لگایا اور کہا لو میں یہ تمغہ تمہیں بادشاہ کی طرف سے سب سے نہ تمہیں بادشاہ کی طرف سے سب سے بڑی بہادری دکھانے پر دے رہا ہوں۔ اس کے بعد اُس نے بارہ سپاہی مقرر کیے کہ اس شخص کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے باڑی مار دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے باڑ مار دی۔ جب وہ افسر ساحل فرانس پر اترا اور کشتی میں سوار ہوا تو اتفاقاً اُس کی کشتی پر جو ملاح مقرر تھا وہ اُس سپاہی کا بھائی تھا جسے اُس نے گولی سے اڑا دیا تھا۔ جب کشتی ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی اُس ملاح نے موقع پا کر افسر سے کہا آپ کو معلوم ہے میں کون ہوں ؟ وہ کہنے لگا مجھے تو پتہ نہیں۔ ملاح کہنے لگا میں اُس شخص کا بھائی ہوں جسے آپ نے گولی مارنے کا حکم دیا تھا اور چونکہ آپ نے میرے بھائی کو مروادیا ہے اس لیے میں نے اُسی وقت یہ نیت کر لی تھی کہ میں آپ سے اپنے بھائی کا انتقام لوں گا اور میں اِسی موقع کی تاڑ میں تھا۔ اُس وقت سمندر میں طوفان زیادہ تھا مگر آپ کا حکم تھا کہ مجھے جلدی سے ساحل پر پہنچایا جائے میں نے اپنے آپ کو اسی نیت سے پیش کیا تھا کہ مجھے موقع مل گیا تو میں راستہ میں اپنے بھائی کا بدلہ لے لوں گا۔ اب آپ قتل ہونے کے لیے تیار رہیے۔ آپ نے میرے بھائی کو ہلاک کر کے مجھے اتنا صدمہ پہنچایا ہے کہ اب سوائے اس کے میرے پاس کوئی صورت نہیں کہ میں اس کشتی کو غرق کر دوں اور خود بھی مر جاؤں اور آپ کو بھی مار ڈالوں۔ وہ افسر اُس سے کہنے لگا تمہیں پتہ ہے میں نے تمہارے بھائی کو کیوں مروایا ؟ وہ کہنے لگا مجھے پتہ ہے۔ مگر اُس نے اپنے مجرم کا ازالہ بھی تو کر دیا تھا۔ افسر کہنے لگا اُس نے ازالہ تو کیا مگر کیا یہ ازالہ اُس کے اختیار میں تھا؟ کیا ہزار میں سے