خطبات محمود (جلد 25) — Page 355
1944ء 355 خطبات محمود اس خبر کو سن کر بجائے اِس کے کہ مدینہ سے بھاگتے اکٹھے ہو کر اُحد کی طرف چل پڑے۔ حدیثیں اس بارہ میں خاموش ہیں کہ وہ کیوں اُحد کی طرف چلے۔ مگر عقل بتاتی ہے کہ ان کی ایک ہی غرض ہو سکتی تھی اور وہ یہ کہ وہ سمجھتے تھے اگر واقعی مسلمانوں کا لشکر تتر بتر ہو چکا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو چکے ہیں تو وہاں جاکر آپ کے جسم اطہر کی حفاظت کرنے کے سوا ان کی اور کوئی غرض نہ ہو سکتی تھی۔ بعد میں معلوم ہو گیا کہ یہ خبر غلط تھی۔ یہ ہجوم تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اسلامی لشکر واپس آرہا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو آگے بھیجا تھا کہ جلد پہنچ کر مدینہ میں اطلاع دیں تا وہاں جو لوگ ہیں اُن کی پریشانی دور ہو۔ وہ ہجوم اُحد کی طرف جارہا تھا کہ تھوڑے ہی فاصلہ پر ایک مسلمان سوار واپس آتا ہو املا۔ اس نے عورتوں اور بچوں کے اس ہجوم کو دیکھا تو ایک عورت کو ان میں سے پہچانا۔ وہ عورت آگے بڑھی اور اس سپاہی سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا صلی حال ہے؟ وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیریت سے دیکھ کر آیا تھا، اُس کا دل مطمئن تھا اس لیے اُس نے اس عورت کے سوال کا تو کوئی جواب نہ دیا بلکہ اُسے کہا کہ بہن ! افسوس ہے تمہارا باپ شہید ہو گیا۔ یہ سن کر اُس عورت نے کوئی جزع فزع نہ کی بلکہ پوچھا کہ مجھے یہ بتاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس پر بھی چونکہ اس شخص کے دل میں اطمینان تھا اُس نے کہا کہ افسوس! تمہارا خاوند بھی مارا گیا۔ مگر اس عورت نے پھر اس بات کی کوئی پروا نہ کی اور پوچھا کہ میں جو پوچھ رہی ہوں وہ بات مجھے بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کیا حال ہے؟ اس نے پھر بھی اس سوال کا جواب دینے کی بجائے کہا کہ تمہارا بھائی بھی مارا گیا ہے۔ یہ سن کر بھی اس عورت نے یہی کہا کہ میں نے نہ باپ کا پوچھا ہے، نہ بھائی کا اور نہ خاوند کا۔ میں تو یہ پوچھ رہی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے۔ تب اس کی آنکھیں کھلیں اور اس نے دل میں کہا کہ یہ عورتیں اپنے اخلاص میں ہم مردوں سے کم نہیں ہیں اور اس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو خیریت سے ہیں۔ یہ سن کر اُس نے کہا الْحَمْدُ لِلہ اگر آپؐ خیریت سے ہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں کہ میرا باپ، بھائی اور خاوند مارے گئے 4