خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 343

1944ء 343 خطبات محمود حکم دیا ہے تا کہ اگر کچھ نمازیں انسان کی غفلت کی وجہ سے گر جائیں تو نوافل ان کا قائم مقام بن سکیں۔ یا ذکر الہی کا حکم دے دیا تا کہ اگر نوافل میں کمی آجائے تو ذکرِ الہی ان نوافل کا قائم مقام ہو جائے۔ پس اگر تم روحانی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہو کر روحانی فیوض حاصل کرنا چاہتے ہو ، اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے قائم کردہ نظام سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو نمازوں کی درستی کی طرف توجہ کرو اور بَيْنَ الْأَركان حرکات کو وقار سے ادا کرو۔ پھر دو چیزیں اور بھی ہیں جن کا میں ذکر کر دینا چاہتا ہوں۔ جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ کم سے کم مقدار میں ان امور کی پابندی کریں تاکہ اُن کے دلوں کا نور بڑھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل ان پر نازل ہوں ۔ اُن دو باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں كَلِمَتَانِ حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ 6 فرماتے ہیں دو کلمے ایسے ہیں کہ رحمان کو بہت پیارے ہیں خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ زبان پر بڑے ہلکے ہیں۔ عالم، جاہل، عورت، مرد ، بوڑھا، بچہ ہر شخص ان کلمات کو آسانی سے ادا کر سکتا ہے۔ اگر تم دوسال کے بچہ کو وہ کلمات سکھانا چاہو تو وہ بھی ان کو سیکھ جائے گا۔ اگر ایک بڑھے کھوسٹ کو وہ کلمات سکھانے لگو تو وہ بھی ان کو سیکھ لے گا۔ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ لیکن قیامت کے دن جب اعمال کا وزن ہو گا تو جس شخص کی نیکیوں کے پلڑے میں وہ ہوں گے وہ اسے بہت بھاری بنا دیں گے اور اُسے دوسرے پلڑے سے نیچا کر دیں گے۔ وہ کلمے یہ ہیں سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ ۔ یہ کتنا چھوٹا سا کلمہ ہے۔ اگر تم اپنے دوسالہ بچے کو یاد کرانا چاہو تو وہ بھی اسے آسانی سے یاد کرے گا۔ کیونکہ اس کا وزن ایسا ہے جس میں توازن شعری قائم ہے اور انسان ان کلمات کے پڑھتے وقت یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا ایک جھولا جھول رہا ہے جو کبھی اونچا ہو جاتا ہے اور کبھی نیچا ہو جاتا ہے۔ پس چونکہ ان میں تناسب صوتی پایا جاتا ہے اس لیے ان کا یاد رکھنا بڑا آسان ہے اور اسے اپنی زبان سے دُہرانا تو اور بھی آسان ہے۔ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تسبیح و تحمید اور تکبیر کی