خطبات محمود (جلد 25) — Page 342
1944ء 342 خطبات محمود کوئی اور بات کیے بغیر وہ وہاں سے اُٹھا اور کہنے لگا خدا کی قسم! میں ان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا۔ مگر ان پر کوئی بات زیادہ بھی نہیں کروں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس وقت فرمایا اگر اس شخص نے اپنی بات کو پورا کر لیا تو نجات پا گیا۔ 4 تو دیکھو وہ شخص تھوڑی دیر کے لیے آیا اور چند منٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھا۔ باتیں اُس نے تھوڑی سی دریافت کیں مگر پھر وہ اس ارادہ سے کھڑا ہو گیا کہ اب میں ان باتوں پر عمل کر کے رہوں گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ صرف سنوں اور عمل نہ کروں۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ بھی تھے جو بیسیوں دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے، ہزاروں باتیں انہوں نے سنیں مگر وہ منافق کے منافق ہی رہے۔ انہوں نے باتیں تو سنیں مگر ان پر عمل نہ کیا اُن سے انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ زیادہ باتیں سننے والے تو جہنم میں چلے گئے اور چھوٹی سی بات سن کر اس پر عمل کرنے والا جنت میں چلا گیا تو نیکی کی باتوں کو سننا اور ان پر عمل کرنا بڑی اہم بات ہوتی ہے اور جتنا کوئی ثواب کے حصول کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی وہ ان باتوں کو یاد رکھتا اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بعض دفعہ نیک کاموں میں حصہ لینے کے باوجود انسان کے ایمان کا جو برتن ہوتا ہے اس کے پیندے 5 میں شگاف ہوتا ہے مگر وہ اس کی طرف سے غافل ہوتا ہے۔ ایسا انسان نماز تو پڑھتا ہے مگر چونکہ اس کے نماز کے بر تن میں شگاف ہوتا ہے اس لیے اُس کی غفلت کی وجہ سے وہ نماز اس شگاف میں سے نیچے گر جاتی ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان نماز تو پڑھتا ہے مگر اس کا دھیان کسی اور طرف ہوتا ہے۔ یا وضو میں اُس سے کوئی بے احتیاطی ہو جاتی ہے مگر اسے علم نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں وہ بظاہر نماز پڑھ رہا ہوتا ہے مگر وہ نماز پیندے کے سوراخ میں سے نیچے گر جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میر کہ میری ہزار نمازیں جمع ہو چکی ہوں گی حالانکہ وہاں صرف سو نمازیں ہوتی ہیں۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کے بٹوے یا جیب میں شگاف ہو مگر اُسے علم نہ ہو۔ وہ تو یہی سمجھتا رہے گا کہ میری جیب یا بٹوے میں اتنے روپے ہیں مگر جب وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالے گا تو اُسے وہاں کوئی روپیہ نہیں نہیں ملے گا۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نمازوں کے ساتھ نوافل کا بھی