خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 341

$1944 341 خطبات محمود اُن میں سے جو پہلے صلح کرتا ہے وہ جنت میں دوسرے سے پانچ سو سال پہلے داخل ہو گا۔میرے دل میں یہ بات سن کر خیال پیدا ہوا کہ کل میں نے حسین سے بُرا بھلا ئنا اور انہوں نے مجھ پر سختی کی۔اب اگر حسین معافی مانگنے کے لیے میرے پاس پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے صلح ہے کر لی تو میں دونوں جہان سے گیا کہ یہاں بھی مجھ پر سختی ہو گئی اور اگلے جہان میں بھی میں پیچھے رہا۔چنانچہ میں نے ہی فیصلہ کیا کہ مجھ پر جو سختی ہو گئی ہے وہ تو ہو گئی اب میں اُن سے پہلے معافی مانگ لوں تاکہ اس کے بدلہ میں مجھے جنت تو اُن سے پانچ سو سال پہلے مل جائے۔خواہش تھی جو انہیں نیکیوں میں ترقی کرنے کی طرف لے جاتی تھی۔بات سننا اور کان سے نکال دینا یہ کوئی مفید طریق نہیں۔ہزار بات سننے اور عمل نہ کرنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ انسان ایک بات سنے اور اس پر عمل کرے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص آیا۔صحابہ می کہتے ہیں ہمیں دور سے ہی اس کی گنگناہٹ کی آواز آرہی تھی۔گویا وہ راستہ میں آتے ہی اپنے لیے منہ میں سوال و جواب کر رہا تھا۔جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں پہنچا تو اُس نے صحابہ سے پوچھا کہ کون ہیں تمہارے صاحب ؟ صحابہ کہتے ہیں ہم نے کہا وہ جو مجلس میں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔اس کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا میں آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔کیا آپ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو خدا نے می لوگوں کو یہ کہنے کا حکم دیا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہاں! مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ میں دنیا میں اپنی رسالت کا اعلان کروں۔وہ کہنے لگا تو بہت اچھا۔میں اس پر ایمان لایا ہوں۔پھر وہ کہنے لگا اب بتائیے یہ جو نمازوں کا حکم ہے ٹھیک ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں! ٹھیک ہے۔وہ کہنے لگا۔کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہ سکتے ہیں کہ آپ کو ان پانچ نمازوں کا خدا نے حکم دیا ہے ؟ رسول کریم میں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! مجھے خدا نے ہی پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد اس نے نے اسی طرح روزوں کے متعلق پوچھا۔پھر حج کے متعلق دریافت کیا۔پھر زکوۃ کے متعلق سوال کیا اور ہر بات وہ آپ سے قسم دے کر پوچھتا رہا۔جب وہ یہ باتیں دریافت کر چکا تو یہ