خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 340

1944ء 340 خطبات محمود اور اُس وقت واپس آتا ہے جب اُس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اُسے دو قیراط ثواب ملتا ہے اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ دوسرے صحابی نے جب اُن کی زبان سے یہ بات سنی تو وہ خفا ہو گئے کہ تم بڑے ظالم ہو۔ آج تک تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث ہمیں بتائی کیوں نہیں۔ خبر نہیں ہم ثواب کے کتنے قیراط ضائع کر چکے ہیں۔ 3 اگر تم پہلے یہ بات بتا دیتے تو ہم جنازہ پڑھ کر واپس نہ چلے جاتے بلکہ میت کے ساتھ جاتے اور اُس کے دفن ہونے کے بعد واپس آتے۔ اور اگر ہم نے جلدی ہی واپس آجانا ہو تا تو مجبوری کی حالت میں واپس جاتے ورنہ میت کے دفن ہونے تک ضرور موجود رہتے تا کہ یہ ثواب ہمارے ہاتھ سے نہ جاتا۔ مگر تم نے تو یہ بات اتنی دیر کے بعد بتائی ہے کہ اب کئی ایسے مواقع ضائع ہو چکے ہیں جب ہم جنازہ کے ساتھ جاسکتے تھے مگر اس حدیث کے عدم علم کی وجہ سے نہ گئے اور ثواب ضائع ہو گیا۔ اسی طرح روایتوں میں آتا ہے ایک دفعہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی۔ بھائیوں بھائیوں میں بھی بعض دفعہ ناراضگی کی کوئی بات ہو جاتی ہے۔ حضرت امام حسن کی طبیعت بہت سلجھی ہوئی اور نرم تھی لیکن حضرت امام حسین کی طبیعت میں جوش پایا جاتا تھا۔ ان میں جو جھگڑا ہوا اُس میں حضرت امام حسین کی طرف سے زیادتی ہوئی۔ لیکن حضرت امام حسنؓ نے صبر سے کام لیا۔ اس جھگڑے کے وقت بعض اور صحابہ بھی موجود تھے ۔ جب جھگڑا اختم ہو گیا تو دوسرے دن ایک شخص نے دیکھا کہ حضرت امام حسن جلدی جلدی کسی طرف جا رہے ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں؟ حضرت حسن کہنے لگے میں حسین سے معافی مانگنے چلا ہوں۔ وہ کہنے لگا کیا آپ معافی مانگنے چلے ہیں ؟ میں تو خود اُس جھگڑے کے وقت وہاں موجود تھا اور میں جانتا ہوں کہ حسین نے آپ کے متعلق سختی سے کام لیا پس یہ اُن کا کام ہے کہ وہ آپ سے معافی مانگیں نہ یہ کہ آپ ان سے معافی مانگنے چلے جائیں۔ حضرت حسن نے کہا یہ ٹھیک ہے۔ میں اسی لیے تو اُن سے معافی مانگنے جا رہا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر سختی کی تھی۔ کیونکہ ایک صحابی نے مجھے سنایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا جب دو شخص آپس میں لڑ پڑیں تو