خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 302

خطبات محمود 302 $1944 پہنچ گئے۔زنانہ جلسہ گاہ کے ارد گرد دو قناتیں تھیں۔ایک قنات کے اندر صحن تھا اور پھر آگے جاکر دوسری قنات تھی اور اس کے اندر عورتیں بیٹھی تھیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اس جلسہ کا ایسا ا مخطر ناک انجام ہو تا کہ ممکن ہے بہت زیادہ خون خرابہ ہو جاتا۔ان لوگوں نے پہلی قنات کو پھاڑ دیا ہے اور گرادیا۔اتنے میں پولیس بھی پہنچ گئی۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ باہر کے پردہ کے اندر جب انہوں نے دیکھا کہ عورتیں نہیں ہیں تو غالباً یہ سمجھا کہ عورتیں یہاں سے چلی گئی ہیں اور اگلی قناتوں تک ہے وہ نہ گئے اور اس ذریعہ سے اللہ تعالی نے اس بڑے خطرے سے ہمیں بچا لیا۔ورنہ اگر عورتوں کی ہے بے حر متی تک نوبت پہنچتی تو پھر کوئی شریف آدمی صبر سے کام نہ لے سکتا تھا۔اگر خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو دہلی وہ نظارہ دیکھتی جو اُس نے گزشتہ اسی سال میں نہیں دیکھا۔جب انہوں نے عورتوں پر حملہ کا ارادہ کیا تو میں نے حکم دیا کہ ایک سو مضبوط نوجوان جاکر عورتوں کی جلسہ گاہ کے باہر کھڑے ہو کر پہرہ دیں۔عورتوں کا احترام نہایت ضروری اور لا بدی ہے۔اس لیے وہی کھڑا ہو جو مرنا جانتا ہو۔بلکہ میں نے یہاں تک کہا کہ اگر تم میں سے کوئی مرنا نہیں جانتا تو وہ ہر گز نہ جائے اور واپس آجائے اُس کی جگہ میں خود جانے کو تیار ہوں کیونکہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مرنا جانتا ہوں۔اُس وقت جو غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین وہاں تھیں اُن کے رشتہ داروں نے کہلا بھیجا کہ ہمیں اپنی مستورات کی نسبت بہت گھبراہٹ ہے، خطرہ بہت ہے، کوئی انتظام کیا جائے۔اس پر میں نے ان کی تسلی کے لیے اعلان کیا کہ آپ فکر نہ کریں اپنی عورتوں سے پہلے ہم می آپ کی عورتوں کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ وہ اس امر کے شاہد ہیں کہ ہم نے وہ وعدہ پورا کر دیا۔بعض غیر احمدی مستورات کے ساتھ میری بیٹیاں گئیں اور ان کو گھر پہنچا کر پھر اپنے گھر آئیں۔جب وہ ہجوم وہاں سے ہٹا تو پھر مختلف جہات سے سنگباری شروع ہو گئی اور وہ لوگ آگے بڑھنے لگے۔حتی کہ ایک دفعہ اتنے قریب آگئے کہ سٹیج کے پاس پتھر پڑنے لگے۔یہ وہی موقع تھا جب میرے داماد میاں عبد الرحیم احمد صاحب کے سر پر چوٹ آئی۔بعد میں ایکسرے سے معلوم ہوا ہے کہ اُن کے سر کی ہڈیاں تین جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں اور حالت خطر ناک ہے ہے اسی طرح اور بھی بہت سے احمدی زخمی ہوئے۔پہلے تو مخیال تھا کہ زخمیوں میں حیح حالت اب تک بھی خطر ناک ہے۔