خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 28

خطبات محمود 28 $1944 لیتا ہے کہ اُس نے اپنے فرض کو ادا کر دیا تو وہ اپنے آپ کو ایک شدید الزام کے نیچے لاتا ہے۔کیونکہ وہ کہتا ہے تبلیغ کا جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے وہ میری شان سے بہت ادنیٰ ہے اس لیے میں روپیہ دے دیتا ہوں تا کہ اس روپیہ کے بدلے کوئی اور شخص یہ کام کر دے مجھے یہ کام نہ کرنا پڑے۔یہ ایک ایسا خطرناک الزام ہے جو اسے کسی صورت میں ہے بھی اللہ تعالی کے حضور بری نہیں کر سکتا۔کیونکہ ایک طرف وہ روپیہ دے کر تبلیغ کی ہے ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے مگر دوسری طرف کہتا ہے میرے اپنے لیے تبلیغ ضروری نہیں۔پس جو شخص چندہ تو دیتا ہے مگر تبلیغ نہیں کرتا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تبلیغ کو ہے ضروری نہیں سمجھتا۔کیونکہ وہ چندہ دے کر تبلیغ کی ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے۔اس سے جب خدا پوچھے گا کہ تو نے کیوں تبلیغ میں حصہ نہیں لیا تو وہ اس کا ایک ہی جواب دے ہے کہ میں تبلیغ کو ایک ادنی کام سمجھا کرتا تھا اس لیے میں نے چندہ دے دیا تھا تا کہ سکتا یہ کام کوئی اور شخص کرتا رہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس پر وگرام کو اپنے سامنے رکھے جو خدا نے تجویز کیا ہے۔وہ ایک طرف تسبیح، تحمید، تکبیر ، درود اور ذکر الہی میں حصہ لے اور دوسری طرف نہ ہے صرف مالی قربانیوں میں حصہ لے بلکہ اپنے اوقات اور جذبات کی قربانی بھی کرے۔اس کے بغیر وہ شکریہ ادا نہیں ہو سکتا جس کا ادا کرنا مسیح موعود کی بعثت کے بعد ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔جیسا کہ میری آواز سے ظاہر ہو رہا ہے گلے کی تکلیف کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے اس لیے میں اس وقت کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں کہ جس طرح اُس نے ہمیں مالی قربانیوں میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اُسی طرح اللہ کرے ہماری جماعت پر وہ دن بھی آجائے جب ہم میں سے ہر شخص اپنے جذبات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہو جائے، اپنے نفس کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہو جائے، اپنے اوقات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہو جائے اور دنیا یہ ماننے پر مجبور ہو جائے کہ ان قربانیوں میں بھی کوئی قوم جماعت احمدیہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی"۔