خطبات محمود (جلد 25) — Page 273
خطبات محمود 273 غالب نے اُس کی وفات پر کہا مرتے ہوئے کہتے ہیں قیامت کو ملیں گے 1944ء کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور 2 یعنی میرا وہ عزیز جس کو میں نے بچہ کی طرح پالا ہوا تھا جب فوت ہونے لگا تو مرتے ہوئے کہنے لگا لو اب میں رخصت ہوتا ہوں اب قیامت کو ہی آپ سے ملاقات ہو گی۔ غالب اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور کیا اس کے سوا کوئی اور بھی قیامت آنے والی ہے۔ جب تم مر گئے تو قیامت تو تمہارے مرنے سے ہم پر آگئی۔ تو جس گھر میں کوئی موت ہوتی ہے اُس گھر کے رہنے والے سمجھتے ہیں کہ ان پر قیامت آگئی، پھر اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہو جس کا سب دنیا کے ساتھ تعلق ہو اور جو تمام عزیزوں اور رشتہ داروں سے زیادہ محبوب اور پیارا ہو تو تم خود ہی سمجھ لو کہ اُس کی موت کیسی عظیم قیامت ہو گی۔ صحابہ کو دیکھ لو وہ کتنی زیرک اور سمجھ دار قوم تھی۔ کتنی شرک کے خلاف تعلیم اسے دی گئی تھی اور کس قدر توحید کا سبق اسے بار بار دیا گیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات پر سوائے چند کے سب نے شور مچادیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر گئے ہیں اور وہاں سے زندہ واپس آئیں گے۔ یہ ایک قیامت تھی جو اُن پر آئی۔ اور یہ اتنی بڑی قیامت تھی کہ جو شخص انہیں ساری عمر سمجھاتا رہا کہ میں ویسا ہی انسان ہوں جیسے تم ہو ، جو ساری عمر انہیں شرک کے خلاف تعلیم دیتا رہا، جو ساری عمر انہیں بتاتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا معبودِ حقیقی سمجھو۔ اُس کی وفات کا انہیں اتنا شدید صدمہ ہوا کہ ان کے دماغ پھر گئے اور انہوں نے وہی کچھ کہنا شروع کر دیا جس سے اُنہیں روکا گیا تھا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات دنیا کے لیے ایک قیامت تھی اور بہت بڑی قیامت صحابہ کو غلطی لگی اور شدید غلطی لگی۔ مگر وہ آدمی نیک تھے۔