خطبات محمود (جلد 25) — Page 269
1944ء 269 خطبات محمود مخالفین کے ظلموں کی وجہ سے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو مقابلہ کی اجازت دے دی۔ جیسا کہ فرمایا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ 50 جن لوگوں کو خوامخواہ نشانہ مظالم بنایا گیا ہے اب اُن کو بھی اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ پس سپین کے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوں مقدر ہے تو ہماری تبلیغ و تعلیم سے ہی کفر و شرک کو چھوڑ دیں گے ۔ اور یا پھر ہم پر اتنا ظلم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقابلہ کی اجازت ہو جائے گی اور وہ جنہوں نے کان پکڑ کر مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالا تھا، کان پکڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور کے غلام حاضر ہیں اور اس اکیلے لڑنے والے کی روح ناکام نہیں رہے گی۔ پس کبھی یہ خیال نہ کرو کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ یہ منافقوں والی بات ہے جنہوں کہا تھا کہ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَكُمْ یعنی اگر ہم کو پتہ ہوتا کہ یہ قتال ہے تو ہم ضرور ساتھ چلتے۔ مگر یہ قتال نہیں بلکہ خود کشی ہے اس لیے ساتھ نہ گئے۔ پس خود کشی ہو یا کچھ ، ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی فتح کے لیے مال اور جان کی قربانی کے لیے کھڑے ہوں۔ دوسروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ اپنا فرض ادا کریں۔ جو ایسا کرے گا آئندہ نسلیں اُس پر درود بھیجیں گی۔ لیکن جو غداری کرے گا اور پیٹھ دکھائے گا اللہ تعالیٰ اُس پر رحم کرے۔ لاکھوں کروڑوں صالحین کی لعنتیں اُس پر پڑتی رہیں گی"۔ (الفضل 6 مئی 1944ء) 1 : تاریخ طبری جلد ثانی صفحه 631 ، 632 - زیر عنوان ذكر الخبر عن عمرة النبي صلى الله عليه وسلم التي صدّه المشركون فيها عن البيت و هي قصة الحديبية مطبوعہ مصر 1961ء 2 : بخارى كِتَاب الْعِلْمِ ، بَاب الاغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ 3 : متی باب 12 آیت 46 تا 49 4 : یوحنا باب 19 آیت 25 تا 27 40 :5 : الحج 6 : آل عمران: 168