خطبات محمود (جلد 25) — Page 268
$1944 268 خطبات محمود پر چھوڑ دو۔یہ بات سن کر وہ لوگ ہنسے اور کہا کہ اس قربانی کا کیا فائدہ؟ اور سب نے انکار کیا۔مگر اس نے کہا کہ اگر تم اس بے غیرتی کو پسند کرتے ہو تو کرو میں تو اپنے ہاتھ سے اسلامی جھنڈا دشمن کے حوالہ نہ کروں گا۔قریباً ایک لاکھ کا لشکر تھا جو قلعہ کے باہر جمع تھا۔وہ اکیلا ہی تلوار لے کر باہر نکلا، دشمن پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔بے شک اس کی شہادت کے باوجو د سپین میں مسلمانوں کی حکومت تو قائم نہ رہ سکی مگر اُس کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گیا اور موت اُسے مٹانہ سکی۔وہ بادشاہ اور جرنیل جنہوں نے اُس کے مشورہ کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جانیں بچائی چاہیں وہ مٹ گئے۔اُن کا ذکر پڑھ کر اور سن کر ہم اپنے نفسوں کو بڑے زور و سے اُن پر لعنت کرنے سے روکتے ہیں۔لیکن کبھی سپین کے حالات کا میں مطالعہ نہیں کرتا یا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ باتیں میرے ذہن میں آئی ہوں اور اس جرنیل کے لیے دعائیں نہ نکلتی ہے ہوں۔اس کے خون کے قطرے آج بھی سپین کی وادیوں میں ہم کو آوازیں دیتے ہیں کہ آؤ! اور میرے خون کا انتقام لو۔بے شک وہ بہادر جرنیل مر گیا۔مگر مرنا ہے کیا؟ کیا یوں لوگ نہیں مرتے ؟ کیا وہ بادشاہ اور جرنیل جو دشمن سے نہ لڑے، مر نہ گئے ؟ وہ بھی ضرور مر گئے لیکن اُن کے لیے ہمارے دلوں سے لعنت نکلتی ہے اور اس جرنیل کے لیے دعائیں۔آج بھی ہے اس کی کشش ہمیں سپین کی طرف بلا رہی ہے اور اگر مسلمانوں کی غیرت قائم رہی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے ظاہر ہوتا ہے نہ صرف قائم رہے گی بلکہ ترقی ہے کرے گی اور پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہو گی۔تو وہ دن دور نہیں جب اس جرنیل کے خون کے قطروں کی پکار ، اس کی جنگلوں میں چلانے والی روح اپنی کشش دکھائے گی اور سچے مسلمان پھر میں سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔اُس کی روح آج بھی ہمیں بلا رہی ہے اور ہماری روحیں بھی یہ پکار رہی ہیں کہ اے شہید وفا! تم اکیلے نہیں ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سچے خادم منتظر ہیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی وہ پروانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔یہ سوال نہیں کہ ہم امن پسند جماعت ہیں۔مخالف امن پسندوں پر بھی تلوار کھینچ کر ان کو مقابلہ کی اجازت دلوا دیا کرتے ہیں۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امن پسند نہ تھے مگر