خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 256

1944ء 256 خطبات محمود -------------------------------------------------- ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اس بات کو پسند نہ کرے کہ مال اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اُس کا مال اُس کے قبضہ میں ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر ٹن لو ۔ وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہو وہ تمہارا ہے اور وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ نہیں کرتے وہ تمہارے رشتہ داروں کا ہے۔ تم مر جاؤ گے تو تمہارے رشتہ دار آئیں گے اور اُس مال پر قبضہ کر کے لے جائیں گے ۔ 8 پس یاد رکھو! وہ زندگی جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہوئے ہو وہی تمہاری زندگی ہے۔ لیکن وہ زندگی جو تم اپنے نفس کے لیے خرچ کرتے ہو وہ ضائع چلی گئی۔ جو شخص خدا کے لیے اپنی زندگی قربان کرتا ہے وہ چاہے کتنی ہی گمنامی کی زندگی بسر کرے، چاہے دنیا میں اُسے کوئی شخص نہ جانتا ہو آسمان پر خدا اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور اُس کو اپنے قرب میں عزت و احترام کی جگہ دیتا ہے۔ پس مت خیال کرو کہ دین کے لیے اپنی زندگی قربان کرنا زندگی کو ضائع کرنا ہے۔ یہ زندگی کو ضائع کرنا نہیں بلکہ اُسے ایک قیمتی اور ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی چیز بنانا ہے۔ رم صحابہ کو دیکھو۔ انہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے قربان کر دیں۔ مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب اسلام یورپ سے لے کر ایشیا تک پھیل گیا۔ اُس وقت امراء ہی نہیں اسلام رم کے علماء بھی کروڑ پتی بن چکے تھے۔ مگر پھر انہی امراء اور انہی علماء نے مل کر ایک ایک صحابی کا پتہ لگایا اور اس کے حالات کو کتابوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ عورت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی اُس کا بھی انہوں نے پتہ لگایا اور اُس کے حالاتِ زندگی انہوں نے کتابوں میں درج کر دیئے۔ کیا تم سمجھتے ہو اگر وہ عورت مدینہ کی بڑی بھاری تاجر ہوتی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کا شرف اُسے حاصل نہ ہوتا تو یہ عزت اُسے حاصل ہو سکتی؟ اگر وہ کروڑ پتی ہوتی تب بھی کوئی شخص اُس کے حالات سے دلچسپی نہ رکھتا اور آج کسی کو معلوم تک نہ ہوتا کہ مدینہ میں کوئی کروڑ پتی عورت تھی۔ لیکن تیرہ سو سال کے بعد آج بھی اُس جھاڑو دینے والی عورت کے حالات ہمیں کتابوں میں نظر آرہے ہیں۔ جب وہ مر گئی تو ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا حال لوگوں سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ ! فلاں ؟ وہ عورت تو