خطبات محمود (جلد 25) — Page 254
1944ء 254 خطبات محمود یہ بات ہے جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ دوسرے میں نے بتایا ہے کہ افریقہ سے مطالبہ آیا ہے کہ وہاں بارہ مبلغوں کی ضرورت ہے۔ یہ مطالبہ بھی ایسا ہے جسے پورا کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ کے لاکھوں بندے جو افریقہ کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اس وقت غلامی میں مبتلا ہیں اور مصلح موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو پیشگوئی ہے اس میں ایک خبر یہ بھی دی گئی ہے کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔ یہ وہ قومیں ہیں جو حقیقی معنوں میں اسیر ہیں۔ ہزاروں سال سے ان اقوام کو حکومت نہیں ملی اور دوسروں کی غلامی اور ماتحتی میں ہی اپنی زندگی کے دن گزارتی چلی آرہی ہیں۔ آج یہ قومیں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ، آؤ اور ہمیں حریت کا سبق دو۔ خدا نے ہمیں اس کام کے لیے مقرر کیا ہے کہ ہم ان قوموں کو رستگاری بخشیں، ہم ان کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ دیں۔ اور نہ صرف انہیں ضمیر کی تحریت کا سے عاری سبق دیں بلکہ ان کی جسمانی ذلت اور ظاہری نکبت کو بھی دور کریں۔ وہ قومیں تعلیم سے: ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں تعلیم کا سلسلہ جاری کریں اور ان میں عقل اور شعور پیدا کریں، انہیں تمدن اور تہذیب سے رہنا سکھائیں، ان میں تنظیم پیدا کریں اور پھر دین کی محبت اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کا مادہ ان میں پیدا کریں۔ دیکھو ! وہ کس قدر قربانی کرنے والی قو میں ہیں۔ وہ اتنے جاہل اور تعلیم سے نا آشنا ہونے کے باوجود تمام مشنوں کا خرچ خود برداشت کر رہے ہیں۔ آپ ہی مدر سے چلاتے ہیں ، آپ ہی مسجدیں بناتے ہیں، آپ ہی مبلغوں کو مختلف علاقوں میں مقرر کرتے اور ان کے گزارہ کا بندوبست کرتے ہیں۔ ابھی اُن کی تعلیم ایسی نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کے مبلغ پیدا کر سکیں جو تعلیم یافتہ لوگوں کو مذہب کے متعلق اطمینان دلا سکیں۔ لیکن بہر حال وہ بڑے اخلاص سے تمام کام کر رہے اور اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں۔ اس علاقہ میں کام کرنے کے لیے کچھ عربی اور کچھ انگریزی کا جاننا ضروری ہے۔ ان کو تین چار مہینہ کی ٹریننگ دے کر اس ملک میں تبلیغ کے لیے بھجوا دیا جائے گا۔ وہاں انگریزی میں تبلیغ کرنی ضروری ہوتی ہے۔ گو اعلیٰ درجہ کی انگریزی نہ آئے مگر ٹوٹی پھوٹی انگریزی ضرور آنی چاہیے۔ اسی طرح کسی قدر عربی کا آنا ضروری ہوتا ہے