خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 253

1944ء 253 خطبات محمود موجود ہیں اور جبکہ خدا نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سو میں سے ننانوے ایسے ہی لوگ ہوں گے جو اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ پس وہ لوگ اپنے آپ کو پیش کریں جو مضبوط جسم والے ہوں، زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں اور محنت اور شوق سے کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس غرض کے لیے اگر ہمیں ایسے گریجوایٹ مل جائیں جنہوں نے زراعت کا امتحان پاس کیا ہو تو ان کو مینیجر اور بعض کو نائب مینیجر بنا یا جا سکتا ہے اور جو کم تعلیم یافتہ ہوں ان کو اکاؤنٹنٹ یا منشی وغیرہ بنایا جا سکتا ہے۔ بہر حال ایسے لوگوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی وہ سال ہیں جب اجناس کی قیمتیں زیادہ ہیں اور سلسلہ کو مالی لحاظ سے نفع حاصل ہو سکتا ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی آمد سے ایک بھاری ریز رو فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ ہم اپنی ساری زمینیں آزاد کرالیں مگر ابھی تک ساری زمینوں کو آزاد نہیں کرایا جا سکا۔ بہت سی آزاد کرائی گئی ہیں۔ مگر اس میں تین چار لاکھ روپیہ ایسا ہے جو قرض لیا گیا ہے۔ میر امنشاء ہے کہ نہ صرف ہم اپنی تمام زمینیں آزاد کرالیں بلکہ انہی کی آمد سے چار پانچ سال کے عرصہ میں کم سے کم پچیس لاکھ روپیہ کا ایک اور ریز روفنڈ قائم کر لیں اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر کام کرنے والے محنت سے کام کریں، دیانتداری سے کام کریں، اخلاص سے کام کریں تو پچیس لاکھ روپیہ کا مزید ریز رو فنڈ قائم ہونا کوئی مشکل بات نہیں۔ پھر اس پچیس لاکھ روپیہ کو نفع پر لگایا جائے تو اس کی آمد سے بعض اور کام کیے جاسکتے ہیں۔ معمولی تجارت پر بھی اگر اس قدر روپیہ لگا دیا جائے تو پچیس لاکھ پر پچھتر ہزار روپیہ نفع ہو سکتا ہے اور اگر اس روپے کو کسی اعلیٰ کام پر لگایا جائے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہو سکتی ہے۔ اس طرح ایک ریز رو فنڈ سے آہستہ آہستہ دوسرا ریز روفنڈ قائم ہو سکتا ہے اور دوسرے ریز روفنڈ کی آمد سے تیسر اریز روفنڈ قائم ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ دو تین کروڑ بلکہ دو تین ارب تک یہ رقم پہنچ سکتی ہے۔ پھر پانچ ہزار ہی نہیں پانچ لاکھ مبلغ اگر ہم رکھنا چاہیں گے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے رکھ سکیں گے۔ کیونکہ پانچ ہزار مبلغ کافی نہیں۔ چونکہ ہمارا کام جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے۔ اس لیے ہمارے مبلغ پانچ لاکھ ہونے چاہیں جن کا ایک حصہ تبلیغ کرے اور دوسرا حصہ تربیت کی طرف توجہ کرے۔ پس ایک تو