خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 247

خطبات محمود 247 $1944 سے جس میں ایک پیسہ موجود ہے دین کے لیے پیسہ نکال لے اور ایک امیر کی جیب سے جس میں دس ہزار روپیہ موجود ہے دین کے لیے دس ہزار روپیہ نکال لے۔کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہو سکتے۔اور بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بن سکتی۔اور بغیر جماعت بننے کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہوتی۔وہ روپیہ جو بغیر دل صاف ہونے کے آئے وہ انسان کے لیے رحمت نہیں بلکہ لعنت کا موجب ہوتا ہے۔وہی روپیہ انسان کے لیے رحمت کا موجب ہو سکتا ہے جس کے ساتھ ہی انسان کا دل بھی پاک ہو اور دنیوی آلائشوں سے مبرا ہو۔پس مت سمجھو کہ اگر کثرت سے روپیہ آنے لگا تو تم قربانیوں سے آزاد ہو جاؤ گے۔اگر کثرت سے روپیہ آگیا تو ہمارے ذمہ کام بھی تو بہت پڑا ہے۔ہم نے اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے دنیا میں وہ نظام قائم کرنا ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ہم نے ہر کے لیے کھانا مہیا کر نا ہے، ہم نے ہر شخص کے لیے کپڑا مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر شخص کے لیے مکان مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر بیمار کے لیے علاج مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر انسان کے لیے تعلیم کا سامان مہیا کرنا ہے۔کیا یہ ساری چیزیں آسانی سے ہو سکتی ہیں ؟ ان کے لیے تو اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہے۔بلکہ اگر اربوں ارب روپیہ آجائے تو پھر بھی یہ کام ختم نہیں ہو سکتا۔روپیہ ختم ہو سکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ بڑھتا چلا جائے گا۔پس کسی وقت جماعت میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ اب روپیہ کثرت سے آنا شروع ہو گیا ہے قربانیوں کی کیا ضرورت ہے اب چندے کم کر دیئے جائیں۔اس سے زیادہ کسی جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہو سکتی۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی موت کے فتوی پر دستخط کر دے۔پس مت سمجھو کہ ان زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ کی آمد کے بعد چندے کم ہو جائیں گے۔اگر یہ روپیہ ہماری ضروریات کے لیے کافی ہو جائے تب بھی تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لیے ، تمہارے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لیے، تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کے لیے، تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے۔اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کر دیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہو گا، یہ سلسلہ پر ظلم ہو گا، ہے یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ظلم ہو گا ، یہ تقویٰ اور ایمان پر ظلم ہو گا۔جب میں ہو