خطبات محمود (جلد 25) — Page 24
خطبات محمود 24 دعویٰ سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا کہ $1944 ہم مریضوں کی ہے تمہی یہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لیے انہوں نے اپنی اولاد کو مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعوی کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔غرض اس پایہ کے وہ روحانی آدمی تھے۔انہوں میں نے اپنی جوانی میں 12 سال تک وہ چنگی جس میں بیل جو تا جاتا ہے اپنے پیر کی خدمت کرنے می کے لیے چلائی اور 12 سال تک اس کے لیے آٹا پیتے رہے تب انہوں نے روحانیت کے سبق ان کو سکھائے۔تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں بلکہ ان سے ہزاروں گنا زیادہ اور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تشریح نے بھی بتا دیا کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہے۔کیونکہ کوثر کے معنے اُس سخی انسان کے ہوتے ہیں جو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والا ہو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو خزانے لٹائے گا مگر لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں ہے کریں گے۔اس تشریح سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - اے محمد رسول اللہ ! ہم تجھے ایک ایسا روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جو خیر کثیر رکھتا ہو گا جو علومِ روحانیہ کا ایک خزانہ ہو گا۔ایسے آدمی کی بعثت پر ہر مومن کا فرض ہوگا کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبادتیں کرے اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں بجا لائے۔یہ صاف بات ہے کہ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے زمانہ میں اس