خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 24

1944ء 24 خطبات محمود دعوئی سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لکھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لیے انہوں نے اپنی اولاد کو مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعوی کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔ غرض اس پایہ کے وہ روحانی آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں 12 سال تک وہ چکی جس میں بیل جو تا جاتا ہے اپنے پیر کی خدمت کرنے کے لیے چلائی اور 12 سال تک اس کے لیے آٹا پیتے رہے تب انہوں نے روحانیت کے سبق ان کو سکھائے۔ تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں بلکہ ان سے ہزاروں گنا زیادہ اور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔ مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تشریح نے بھی بتا دیا کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ کوثر کے معنے اُس سخی انسان کے ہوتے ہیں جو کثرت سے صدقہ وخیرات کرنے والا ہو۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو خزانے لٹائے گا مگر لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں کریں گے۔ اس تشریح سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ - اے محمد رسول اللہ ! ہم تجھے ایک ایسا روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جو خیر کثیر رکھتا ہو گا جو علوم روحانیہ کا ایک خزانہ ہو گا۔ ایسے آدمی کی بعثت پر ہر مومن کا فرض ہو گا کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبادتیں کرے اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں بجا لائے۔ یہ صاف بات ہے کہ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے زمانہ میں اس