خطبات محمود (جلد 25) — Page 231
1944ء 231 خطبات محمود وہ چھپے ہوئے خزانے جن کو آپ زمین سے باہر نکال رہے تھے ، وہ دولتیں جن پر لوگوں کے بخل کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھا اور وہ سگے جن پر اس قدر میل جم چکی تھی کہ وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے اُن کو صاف کرنے اور دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے گھروں میں وہ مال و دولت پہنچانے اور ان کی روحانی غربت و افلاس کو دور کرنے اور انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر رہے تھے۔ آپ کا گر تہ یا پاجامہ یہ کام نہیں کر رہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔ گویا جس نے یہ کام کیا اُس کے جسم کے ساتھ لگا ہو اگر تہ ، اُس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہوا پاجامہ ، اُس کے سر پر رکھا ہو ا عمامہ ، اس کی جیب میں پڑا ہوا رومال اور اس کے پاؤں میں ، پڑی ہوئی جوتی بھی برکت والی ہو گئی۔ کیونکہ جس شخص سے خدا نے کام لیا یہ چیزیں اُس کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم اس کام کے مستحق نہیں، ہم اس کام کے اہل نہیں، ہم میں وہ خوبیاں نہیں جو اعلیٰ جماعتوں میں پائی جانی چاہیں۔ مگر چونکہ خدا نے ہمیں ایک درجہ دے دیا ہے اس لیے اس کام کے ہونے کی وجہ سے ہمیں وہ برکات ملنی ضروری ہیں جو برکات ایسے کاموں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن بہر حال ہمارے لیے ان برکات کے حصول کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ دیکھو وہی گرتہ برکت پا گیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم سے جاملا۔ اُسی پاجامہ نے برکت حاصل کی جو آپ کی ٹانگوں میں لیٹا رہا۔ اُسی پگڑی نے برکت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہنا۔ وہی کلاہ عزت کا مستحق ہوا جو آپ کے سر پر رہا، اسی ٹوپی نے عزت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سر پر رکھا، وہی رومال برکت حاصل کر گیا جو آپ کی جیب میں پڑا رہا اور وہی جوتی برکت والی قرار پائی جو آپ کے پاؤں میں رہی۔ پس برکت حاصل کرنے کے لیے کم سے کم اتنالگاؤ کا ہونا تو ہمارے لیے ضروری ہے جس طرح گرتہ آپ کے جسم سے چمٹا رہا، جس طرح پاجامہ آپ کی ٹانگوں سے لپٹا رہا، جس طرح رومال آپ کی جیب میں پڑا رہا، جس طرح عمامہ آپ کے سر پر دھرا رہا، جس طرح جوتی آپ کے پاؤں میں پڑی رہی۔ اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم الہی برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم