خطبات محمود (جلد 25) — Page 226
1944ء 226 12 خطبات محمود دین کی خدمت کے لیے مالی اور جانی قربانیوں کا مطالبہ ہمیشہ اور ہر آن ہو تا رہے گا )فرمودہ 31 مارچ 1944ء تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " مجھے اترسوں شدید پیچش کی شکایت ہو گئی تھی جس سے خون کے دست بھی آتے رہے اور گو کل سے اس میں افاقہ ہے لیکن ابھی بخار روزانہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اب بھی ہے۔ چنانچہ ابھی آتے ہوئے تھرما میٹر لگا کر میں نے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ آج مجھے گردے کے مقام پر درد بھی ہو گیا۔ ان وجوہ کے ماتحت میں آتو نہیں سکتا تھا لیکن میرے دل نے گوارا نہ کیا اور یہی فیصلہ کیا کہ چاہے بیٹھ کر مجھے خطبہ دینا پڑے اور خواہ بعد میں تکلیف بڑھ جائے پھر بھی خود جا کر مجھے خطبہ پڑھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد جو کام کیا ہے وہ اتنا اہم اور اتنا عظیم الشان ہے کہ اُس کے لیے جتنی بھی قربانی جماعت کو کرنی پڑے در حقیقت وہ کام اس کا مستحق ہو گا اور جتنی بھی قربانی ہم کریں در حقیقت وہ قربانی اس فضل سے کم ہی رہے گی جو اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کر کے ہم پر کیا ہے۔ میں تو حیران رہ جاتا ہوں اور میری عقل دنگ ہو جاتی ہے جب