خطبات محمود (جلد 25) — Page 222
$1944 222 خطبات محمود کر دیں گے۔یہ ادنی سے ادنی قربانی ہے۔یہ اقرار تو دراصل وہ ہے جو ہر شخص احمدیت میں داخل ہوتے وقت کرتا ہے اور اب ایسا کرنا گویا اس اقرار کو دُہرانا ہے جو ہر احمدی نے جماعت میں داخل ہوتے وقت کیا تھا۔اور اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کا بیعت کے وقت کا اقرار مصنوعی نہ تھا بلکہ وہ جماعت کو اختیار دیتا ہے کہ جب اس کے اموال کی ضرورت ہو وہ لے سکتی ہے۔پس میں جماعت کو اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ابھی بہت سا حصہ جماعت کا ایسا ہے جس نے ابھی اس پر غور نہیں کیا۔یہ میں نہیں کہتا کہ ہر شخص ایسا کرے۔ہاں جسے خدا تعالیٰ بشاشت قلب عطا کرے اور توفیق دے وہ ضرور اس میں حصہ لے۔ہاں جو بوجھ محسوس کرے اور جو سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا اور اس کے بیوی بچے اُس پر معترض ہوئے تو اُسے پچھتانا پڑے گا وہ نہ حصہ لے۔صرف وہی حصہ لیں جو سمجھتے ہیں کہ خواہ بیوی، بچے یا عزیز ترین رشتہ دار بھی اس پر ناراض ہوں اسے کوئی پروا نہیں اور جسے اس قربانی کے بعد افسوس نہیں ہو گا بلکہ بشاشت حاصل ہو گی اور جسے یہ خیال نہ آئے گا کہ اُس سے ایسا مطالبہ کیوں کیا گیا۔بلکہ اسے یہ افسوس ہو گا کہ اُس سے سارا مال کیوں نہیں لے لیا گیا۔قربانی وہی فائدہ دے سکتی ہے جو بشاشت کے ساتھ کی جائے اور یہ بشاشت میں نے دیکھا ہے زیادہ تر یہ غریبوں کو حاصل ہوتی ہے۔میری تحریک کے بعد بعض غریب عور نہیں میرے پاس آئیں اور میں اپنے زیور پیش کیسے کہ یہ لے لیں۔ایسا نہ ہو کہ ہم خرچ کر لیں اور پھر حصہ نہ لے سکیں۔میں نے کہا کہ ابھی ہم اس طرح نہیں لے رہے۔ایک عورت نے تو ایک اور عورت کے پاس اپنے ہیں زیور رکھ دیئے کہ جب ضرورت ہو دے دیئے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ اس کے پاس ہوں تو خرچ ہیں ہو جائیں۔ایمان کی علامت یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی جان، مال سب کچھ دین کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی فرمایا ہے کہ ان اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ 3 اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اموال اور اُن کی جانیں جنت کے عوض اُن سے خرید لی ہیں۔پس جنت کا ملنا اس امر پر موقوف ہے کہ ہم اپنی جانیں اور اپنے مال دین کی راہ میں وقف کر دیں۔اس کے بعد میں ایک اور چندہ کی تحریک کرتا ہوں۔ہم نے قادیان میں کالج ہے