خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 184

$1944 184 خطبات محمود فوت ہوئے تیرہ سو سال ہوچکے ہیں۔میر اعقیدہ جسے میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ ہے کہ انبیاء جسم بھی اُسی طرح مٹی ہو جاتے ہیں جس طرح باقی لوگوں کے جسم۔البتہ بعض زمینیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ اُن میں جو مر دے دفن ہوں اُن کے جسم ایک لمبے عرصہ تک محفوظ ہے رہتے ہیں۔چنانچہ بعض مقامات سے کئی کئی سو سال کی پرانی نعشیں نکلی ہیں اور وہ بالکل سلامت ہیں۔لیکن اس میں مومن اور کافر یا ایک نبی اور غیر نبی میں کوئی فرق نہیں۔ایسی زمین میں اگر میں ایک کافر دفن ہو گا تو اس کا جسم بھی محفوظ ہو گا اور اگر ایک نبی دفن ہو گا تو اس کا جسم بھی ہے محفوظ ہو گا۔پس میرے اِس عقیدہ کے مطابق اگر اُس مٹی کی جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کوئی ایسی تاثیر نہیں ہے جس کی بناء پر وہ اجسام کو محفوظ رکھ سکے تو تیرہ سوسال کے بعد جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کا تعلق ہے وہ متغیر ہو چکا ہو گا۔لیکن اگر کوئی دشمن یہ چاہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو اکھیڑے تو کیا تم سمجھتے ہو خدا تعالیٰ کا عذاب اُس پر نازل نہیں ہو گا ؟ اور کیا تم سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُس کے ہاتھ کو نہیں روکیں گے ؟ فرض کرو وہ مٹی کا ایک ڈھیر ہو تو بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب اس ڈھیر کو کھودنے کا ارادہ کرنے والے پر نازل ہو گا۔اس لیے کہ گورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم اطہر اب دوسری صورت میں تبدیل ہو چکا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو اپنی برکات کے نزول کے لیے مخصوص فرما دیا ہے اور اب اُس مقام پر حملہ کرنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کو بھڑکانا اور اُس کے عذاب کو حرکت میں لانا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔13 اس الہام سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کے جسم کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں میں اللہ تعالیٰ ایتی برکات رکھ دیتا ہے۔اگر قبر پر جانے سے اللہ تعالی کی برکت سے حصہ نہیں مل سکتا تو ہے کپڑوں سے کس طرح برکت ڈھونڈی جاسکتی ہے۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نشان نمائی کے لیے نبیوں سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میں برکت رکھ دیتا ہے اور لوگوں کا فرض ہے ہوتا ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کریں۔پس ان برکات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے بھی اس کی ہے