خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 178

1944ء 178 خطبات محمود ----------------------------- وقت بھی بعض دفعہ ایسا فقرہ انسان کی زبان یا قلم سے نکل جاتا ہے جو رنج کا ہوتا ہے۔ اور گو رنج ایک طبعی چیز ہے، خدا نے اس سے روکا نہیں مگر پھر بھی میں یہی چاہتا ہوں کہ اوّلِ وَهْلَةٍ میں میں خاموش رہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر چالیس دن دعا: دوسرا مضمون جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اعلان کیا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر پر جا کر چالیس دن دعا کروں گا تا کہ اللہ تعالی اسلام کی فتح اور اُس کے غلبہ کا راستہ کھولے اور احمدیت کی اشاعت میں جو روکیں حائل ہیں اُن کو دور فرمائے۔ میں نے اس کی وجہ بھی بتائی تھی کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ شروع شروع میں قبر سے روح کا تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ارواح کا تعلق قبور سے ضرور ہوتا ہے۔ 4 اسی طرح اولیاء اللہ نے بہت سے کشوف اس بارہ میں بیان کیے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ ابتدا میں انسانی روح متوحش ہوتی ہے اور اپنے رشتہ داروں سے جُدا ہونے کا اُسے صدمہ ہوتا ہے اور وہ گھبرائی گھبرائی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ایک مقام پر ٹک جاتی ہے۔ اگر سعید روح ہو تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت کے انعامات سے حصہ دینا شروع کر دیتا ہے اور اگر ناپاک روح ہو تو رفتہ رفتہ اُسے دوزخ کا عذاب شروع ہو جاتا ہے۔ حضرت عثمان فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسانی روح جب قبر میں داخل ہوتی ہے تو اُسے سخت کرب ہوتا ہے۔ اس کے بعد اُس پر جو حالت بھی وارد ہوتی ہے وہ پہلے کرب سے ادنی ہوتی ہے، زیادہ نہیں ہوتی 5 اس کی وجہ سے اُمتِ محمدیہ کے صلحاء و اولیاء قبروں پر جاتے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ مرنے والے کے لیے بھی، اپنے لیے بھی اور اس کے دوسرے رشتہ داروں اور عزیزوں کے لیے بھی۔ ان دعاؤں سے مرنے والی روح تسلی پا جاتی ہے اور اس کا توش کم ہو جاتا ہے۔ یہ طریق جو عام طور پر لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ وہ قبر پر قرآن پڑھنے لگ جاتے ہیں، یہ بالکل لغو ہے۔ قرآن پڑھنے کا تو ہم کو ثواب ملے گا مُردے کو اس کا کیا ثواب ہو سکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان جب قبر پر جائے تو میت کے لیے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت کرے، اُس کے