خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 177

خطبات محمود 177 $1944 خدا نے پھر چاہا کہ اُس کے بندے اُس کی طرف واپس آئیں۔خدا نے پھر چاہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا میں پھیلے، خدا نے پھر چاہا کہ توحید کو دنیا میں قائم کرے، خدا نے پھر چاہا کہ شیطان کو آخری شکست دے کر دین کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دے۔پس آج جبکہ ہمارے رب کے لیے خوشی کا دن ہے ہمارے رنج اُس کی خوشی پر قربان۔ہم اس کی خوشی کے دن منحوس باتیں کرنے والے کون ہیں۔جتنے احسانات اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیے ہیں، واقع یہ ہے کہ اگر ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اور اگر ہماری بیویوں اور ہمارے بچوں کا ذرہ ذرہ آروں سے چیر دیا جائے، تب بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اس کے احسانوں کا کوئی بھی شکریہ ادا کیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں یا تم میں سے سارے اس مقام پر ہیں۔مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور تم میں بھی۔لیکن سچی بات یہی ہے اور جتنی بات اس کے خلاف ہے وہ یقیناً ہمارے نفس کا دھوکا ہے۔آج آسمان پر خدا کی فوجوں کی فتح کے نقارے بج رہے ہیں، آج دنیا کو خدا کی طرف لانے کے سامان کیے جارہے ہیں، آج خدا کے فرشتے اس کی حمد کے گیت گا رہے ہیں اور ہم بھی اس گیت میں ان فرشتوں کے ہمنوا اور شریک ہیں۔اگر ہم جسمانی طور پر غمزدہ ہیں اور ہمارے دل زخم خوردہ ہیں تب بھی مومنانہ طور پر ہمارا یہی فرض ہے کہ ہم اپنے رب کی فتح اور اس کے ہے نام کی بلندی کی خوشی میں شریک ہوں تا اس کی بخشش کے مستحق ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے غموں کو خود ہلکا کرے کہ روح اس کے آستانہ پر مجھکی ہوئی مگر گوشت پوست کا دل دکھ محسوس کرتا ہے۔اس کے بعد میں ایک دوسر ا سوال لیتا ہوں۔میرا ارادہ ہے کہ آئندہ نسلوں کو دعا کی تحریک کرنے کے لیے اپنی بیوی کی وفات کے متعلق کچھ اور بھی کہوں۔لیکن ابھی نہ میں خطبہ میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور نہ قریب ترین عرصہ میں کوئی مضمون لکھنا چاہتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔الصَّبرُ لِأَوَّلِ وَهْلَةٍ 3 صبر پہلے پہلے دنوں میں ہی ہوتا ہے۔رنج اور دکھ کے کلمات ہمیشہ انسان کے مُنہ سے نہیں نکلتے بلکہ صدمہ جب تازہ ہو اُس وقت اُس کے منہ سے نکلتے ہیں۔پس میں نہیں چاہتا کہ اوّلِ وَهْلَةٍ میں میں کوئی ایسا مضمون لکھوں۔بے شک میں نے اُن کی خوبیاں ہی بیان کرنی ہیں لیکن خوبیاں بیان کرتے