خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 176

1944ء 176 خطبات محمود بحال کیا جا سکتا ہو۔ مگر ان کی آواز سے معلوم ہو تا تھا کہ یہ امید موہوم تھی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آواز کے ترعش 2 کو محسوس کیا تو آپ سمجھ گئے کہ مبارک احمد کا آخری وقت ہے اور آپ نے ٹرنک کھولنا بند کر دیا اور فرمایا مولوی صاحب! شاید لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ آپ اتنے گھبرا کیوں گئے ہیں ؟ یہ اللہ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہمیں دی تھی اب وہ اپنی امانت لے گیا ہے تو ہمیں اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے۔ پھر فرمایا آپ کو شاید یہ خیال ہو کہ میں نے چونکہ اس کی بہت خدمت کی ہے اس لیے مجھے زیادہ صدمہ ہو گا۔ خدمت کرنا تو میرا فرض تھا جو میں نے ادا کر دیا اور اب جبکہ وہ فوت ہو گیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر پوری طرح راضی ہیں۔ چنانچہ اُسی وقت آپ نے بیٹھ کر دوستوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہم سے لے لی۔ تو مومن کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہاں تک ہو سکتا ہے دوسرے کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کو اپنے لیے ثواب کا موجب سمجھتا ہے۔ مگر دوسری طرف جب اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوتی ہے تو وہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے خدمت کا ثواب مجھے مل گیا ہے۔ لیکن جو جزع فزع کرنے والے ہوتے ہیں وہ دنیا کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور آخرت کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ بد بخت اور کون ہو سکتا ہے جو دُہری مصیبت اٹھائے۔ اِس جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے اور اگلے جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ زمانہ اسلام کی فتوحات کا ہے۔ بادشاہ کا کوئی نوکر یہ جرات نہیں کر سکتا کہ جس وقت اُس کا بادشاہ کامیابی حاصل کر کے واپس آرہا ہو اور فتح کا جشن منا رہا ہو تو وہ اُس کے سامنے کسی قسم کے غم کا اظہار کرے خواہ اُس دن اُس کا باپ مر گیا ہو ، اُس کا بیٹا مر گیا ہو ، اُس کی بہن مر گئی ہو، اُس کی بیوی مر گئی ہو ۔ وہ اپنی آنکھوں کو پونچھتا اور اپنی ور اپنی کمر کو سیدھی رکھتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے آج میرے آقا کی خوشی کا دن ہے۔ آج میرے لیے غم کا اظہار کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح آج ہمارے لیے خوشی کا دن ہے، آج ہمارے لیے مسرت و شادمانی کا دن ہے کہ تیرہ سو سال کے لمبے عرصہ اور ہزار سال کے فیج اعوج کے بعد