خطبات محمود (جلد 25) — Page 170
1944ء 170 خطبات محمود ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب اس ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے اخلاص اور محبت سے تیمار داری میں حصہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ میری نیت اُس وقت یہی تھی کہ میں جمعہ پڑھا کر قادیان سے جاؤں اور اگلا جمعہ پھر قادیان میں ہی واپس آکر پڑھاؤں۔ پڑھاؤں ۔ لیکن ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب نے یہ اطلاعات دینی شروع کیں کہ مریضہ بالکل اچھی ہیں اور چند دن میں ان کو ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اس وجہ سے میں نے مناسب سمجھا کہ میں اگلے جمعہ تک قادیان ہی ٹھہروں مگر واقعہ یہ تھا کہ اس عرصہ میں ان کا دوبارہ آپریشن ہوا تھا اور ان کی صحت گر رہی تھی۔ چنانچہ جمعرات کی شب کو فون آیا کہ ان کی حالت بہت نازک ہے اور میرے نہ آنے کی وجہ سے وہ بہت گھبرا رہی ہیں۔ ڈاکٹر میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ان کے بھائی ان کو ملنے کے لیے گئے تو انہوں نے آکر شیخ بشیر احمد صاحب کو فون پر ان کی نازک حالت کی اطلاع دی اور مزید کہا کہ وہ مجھے اطلاع کر دیں کہ آپ کے نہ آنے کی وجہ سے مریضہ بہت گھبرائی ہوئی ہیں۔ چنانچہ میں جمعہ پڑھا کر لاہور گیا اور اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اُن کے پیٹ میں دوبارہ شگاف دیا گیا ہے اور حالت پہلے سے خراب ہے۔ اس قادیان کے قیام کے ایام میں جبکہ ان کی صحت کے متعلق مجھے اچھی خبریں آرہی تھیں میں نے خواب میں دیکھا کہ شیخ بشیر احمد صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ام طاہر کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے۔ پھر کہنے لگے انہوں نے آپ تک پہنچانے کے لیے مجھے کہا تھا کہ سو روپیہ فلاں عورت کو دے دیں اور سو روپیہ فلاں عورت کو دے دیں۔ ایک عورت کا انہوں نے نام بتایا اور دوسری کا نام انہوں نے نہ بتایا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کا نام بھول گئے ہیں مگر ساتھ ہی کہا کہ عجیب بات ہے کہ جب وہ وصیت کر رہی تھیں اور ان کا دل ساکت ہو رہا تھا تو ان کی طبیعت بالکل مطمئن تھی اور ان کے دل پر اُس وقت گھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔ یہ خواب میں نے لاہور میں بہت سے دوستوں کو سنا دی تھی۔ خواب کا بعض دفعہ ایک لو حصہ پورا کر دیا جائے تو وہ ٹل جایا کرتی ہے اِس بناء پر میں نے یہاں سے جا کر اُن کو دو سو روپیہ دیا اور کہا کہ ایک سو روپیہ تو فلاں عورت کو دے دو اور ایک سو روپیہ جس عورت کو چاہو