خطبات محمود (جلد 25) — Page 14
$1944 14 خطبات محمود باہر سے تالا لگا دیا گیا، سیڑھیوں پر اور مکان کے اندر باہر سب جگہ پولیس بیٹھ گئی اور اپنی طرف سے تمام کوششیں اس غرض کے لیے کر لی گئیں کہ کوئی شخص اسے قتل نہ کر سکے۔لیکن وقت گزرنے کے بعد جب لوگوں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر زخمی پڑا تھا۔لوگوں نے اس کے سے پوچھا کہ تمہیں کون شخص زخمی کر گیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا میں اندر بیٹھا تھا کہ یکدم چھت پھٹی اور اس میں سے ایک فرشتہ نے اندر داخل ہو کر مجھے خنجر سے زخمی کر دیا۔وہ جب یہاں تک پہنچا تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں نے اسے کہا کیا اس قسم کی کذب بیانی پر تمہیں شرم محسوس نہیں ہوتی؟ یہ کونسی پیشگوئی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اور کب اس رنگ میں پوری ہوئی۔اس پر پہلے تو اُس نے بہانہ بنایا کہ میں نے ایسا ہی پڑھا تھا۔میں نے کہا یہ تمہارا دوسرا جھوٹ ہے۔احمدیوں کی کسی کتاب میں، یہاں تک کہ ان رطب و یابس سے بھری ہوئی تحریروں میں بھی جن میں بعض دفعہ ٹوٹی پھوٹی پنجابی کے اشعار درج ہوتے ہیں لیکھرام والی پیشگوئی کو اس رنگ میں بیان نہیں کیا گیا جس رنگ میں تم نے بیان می کیا ہے۔آخر کہنے لگا میں نے سمجھا تھا کہ دوسرے کے دل میں ایمان پیدا کرنے کے لیے ا کرنا جائز ہے۔میں نے کہا خدا اور اس کا سلسلہ تمہارے جھوٹ کا محتاج نہیں۔اگر تم جھوٹ بول کر سلسلہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرتے ہو تو چاہے تم دوسرے کے اندر ایمان پیدا کرنے کے لیے ہی ایسا کیوں نہ کرو، یہ ایک شدید ترین گناہ ہے اور اس کا ارتکاب تمہیں مجرم بنانے والا ہے۔تو بعض دفعہ انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ فلاں موقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے یا فلاں شخص سے بد دیانتی، بددیانتی نہیں کہلا سکتی۔مگر یہ اس کے نفس کا دھوکا ہو تا ہے۔جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر شخص سے جھوٹ بولتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو، ہندو ہو ، سکھ ہو، عیسائی ہو۔اور جو شخص سچ بولنے کا عادی ہے وہ مسلمان سے بھی سچ بولے گا، وہ ہند و سے بھی سچ بولے گا، وہ سکھ سے بھی سچ بولے گا، وہ عیسائی سے بھی سچ بولے گا۔اسی طرح جس شخص کے اندر دیانت پائی جاتی ہے وہ ہر شخص سے دیانتداری کا معاملہ کرے گا چاہے وہ اس کی قوم کا فرد ہو یا کسی اور قوم کا۔اور جس شخص کے اندر بددیانتی پائی جاتی ہے وہ ہر شخص سے بددیانتی ہے