خطبات محمود (جلد 25) — Page 130
خطبات محمود 130 1944ء مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جلدی اپنی سواریوں پر چڑھ جاؤ اور اپنے آٹے پھینک دو کیونکہ اس جگہ خدا کا غضب نازل ہوا تھا۔ وہ لوگ جن پر غضب نازل ہوا تھا مر گئے۔ جس شہر پر غضب نازل ہوا تھا اُجڑ گیا۔ سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی چلی گئیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اب بھی اُس مقام پر عذاب نازل ہوتا نظر آرہا تھا۔ آپ نے نہ صرف صحابہ کو وہاں سے جلدی نکل جانے کا ارشاد کیا بلکہ ساتھ ہی مسلمانوں کی دولت کا ایک حصہ یعنی وہ آٹا جو انہوں نے روٹی پکانے کے لیے گوندھا تھا اُسے بھی آپ نے پھینکنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس جگہ کے پانی سے گوندھا ہوا آٹا کھانا بھی تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔1 حضرت خلیفہ اول کے متعلق مجھے یاد ہے وہ عبدالحکیم مرتد پٹیالوی سے جب وہ احمدی تھا بہت محبت کیا کرتے تھے اور وہ بھی آپ سے بہت تعلق رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی تو اُس وقت بھی اُس نے یہی لکھا کہ آپ کی جماعت میں سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی نہیں جو صحابہ کا نمونہ شخص۔ ہو۔ یہ سابے شک ایسا ہے جو جماعت کے لیے قابلِ فخر ہے۔ عبدالحکیم پٹیالوی نے ایک تفسیر بھی لکھی تھی اور اُس میں بہت کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھ کر لکھا تھا۔ جب عبد الحکیم نے اپنے ارتداد کا اعلان کیا تو میں نے دیکھا، آپ نے گھبر اگر اپنے شاگردوں کا بلایا اور اُن سے فرمایا جاؤ اور جلدی میرے کتب خانہ میں سے عبد الحکیم کی تفسیر نکال دو۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو۔ حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اور اُس کی بہت سی آیات کی تفسیر اُس نے خود آپ سے پوچھ کر لکھی تھی۔ مگر اس وجہ سے کہ اُس پر خدا کا غضب نازل ہوا، اُس کی لکھی ہوئی تفسیر کو بھی آپ نے اپنے کتب خانہ سے نکلوا دیا اور اپنے ذوق کے مطابق سمجھا کہ یہ کتاب دوسری کتب کے ساتھ مل کر ان کو پلید کر دے گی۔ یہی حال خدا کی رحمتوں کا ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں خدا نے ایک برکت نازل کی برکتوں والے چل بسے اور دو ہز ارسال کا شرک کا لمبا زمانہ مکہ پر آیا مگر اب بھی هُذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ 2 کے الفاظ اُس کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہو رہے تھے ۔ اب بھی اُس کی عزت کی جاتی تھی، اب بھی اُس کی حرمت