خطبات محمود (جلد 25) — Page 126
$1944 126 خطبات محمود یہ تازہ نشان خدا نے لاہور میں ظاہر کیا ہے۔پس جس طرح مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں پر اسلام کی طرف سے خاص ذمہ داریاں عائد ہو گئی تھیں اُسی طرح میں سمجھتا ہوں اس انکشاف کے بعد جو لاہور میں مجھ پر ہوا، یہاں کی جماعت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے اس انکشاف کا مجھ پر سفر میں ہو نا جہاں اس لحاظ ضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی سے مشابہت رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہ پیشگوئی سفر کی حالت میں ہوشیار پور میں فرمائی اور مجھ پر بھی اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا انکشاف سفر کی حالت میں ہی ہو اوہاں آج اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور بات بھی سمجھائی ہے۔بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں فوت ہوئے تھے اور آپ کے لاہور میں فوت ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں لاہور کے متعلق ایک قسم کا بعض پایا جاتا تھا۔یوں تو ہر شخص نے فوت ہونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فوت ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے۔لیکن جب کوئی شخص اپنے لیے گھر پر فوت ہوتا ہے تو اس کے متعلقین کو گو طبعی طور پر رنج ہوتا ہے مگر ان کے دلوں میں کوئی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔لیکن اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کے متعلقین میں کے دل ساری عمر اس حسرت و اندوہ سے پُر رہتے ہیں کہ کاش وہ سفر کی حالت میں فوت نہ ہو تا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اس کے علاج میں کو تاہی ہوئی ہو ، شاید اس کی تیمار داری میں کمی رہ گئی ہو ، شاید وہاں کی آب و ہوا اُسے موافق نہ آئی ہو یا شاید کوئی اور وجہ ہو گئی ہو۔پس ساری عمر اُن کے دلوں سے ایک آہ اُٹھتی رہتی ہے اور انہیں یہ تصور کر کے بھی تکلیف ہوتی ہے کہ اُن کا کوئی عزیز فلاں سفر پر گیا تو پھر وہ واپس نہ آیا بلکہ اُسی جگہ فوت ہو گیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اگر وہ سفر پر نہ جاتا تو نہ مرتا۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں جماعت کے دلوں پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں آئے اور اس جگہ آکر فوت ہو گئے۔خود لاہور کی پیشانی پر بھی ایک بدنما داغ تھا مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کے ذریعہ خبر دی گئی تھی کہ "لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں" اور یہ کہ "وہ نظیف مٹی کے ہیں"۔11 خدا تعالیٰ نے ان