خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 125

$1944 125 محمود تو تمہیں منجن اور پلاؤ اور زردہ کا مزہ نہیں آسکتا۔تمہارا پیٹ ان خالی مچاکوں سے بھر نہیں سکتا۔اسی طرح تم محض خواہش سے صحابیت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے۔تم یہ مقام حاصل کر سکتے ہو مگر اس طرح کہ عمل کرو اور ایسا عمل کرو کہ وہ تمہاری رگ رگ اور نس نس میں سمویا ہے جائے۔تم نماز پڑھو تو سنوار کر پڑھو۔تم الْحَمْدُ للہ کہو تو تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ تم ایک لفظ اپنی زبان سے نکال رہے ہو۔بلکہ تمہیں یوں معلوم ہو کہ تم الْحَمْدُ لِلہ کا مضمون کھا رہے ہو ، تم رب العلمین کہو تو تمہیں یوں معلوم ہو کہ تم خالی الفاظ اپنی زبان سے نہیں نکال رہے بلکہ رَبُّ الْعلمينَ کا لطیفہ 2 کھا رہے ہو۔پھر رحمانیت کا ذکر آئے تو تمہاری یہی کیفیت ہو۔رحیمیت کا ذکر آئے تو تمہاری یہی کیفیت ہو۔پھر بے شک تم یقین رکھ سکتے ہو کہ تمہارا خدا تمہیں بھی پہلے لوگوں کے انعامات سے حصہ دے گا اور وہ تمہارے ساتھ بخل نہیں کرے گا۔پس یہ مت خیال کرو کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ہو سکتا ہے اور یقیناً ہو سکتا ہے۔بلکہ اس زمانہ میں صحابہ کے بعد کے زمانہ سے زیادہ سے زیادہ سہولت سے یہ مقام تم حاصل کر سکتے ہو۔کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے جسے خدا نے اپنی برکتوں کے لیے مخصوص کر لیا۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِذَا الْجَنَّةُ ازْلِفَتْ - 10 جنت اُس زمانہ میں قریب کر دی جائے گی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے بھی جنت لوگوں کے زیادہ قریب کر دی جائے گی۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ فیج اعوج کے زمانہ میں لوگوں کو اپنے خدا کو پانا اور اس کے قرب میں بڑھنا بہت مشکل تھا۔مگر مسیح موعود کے زمانہ میں یہ تمام مشکلات آسان ہو جائیں گی۔رستہ بتانے والے موجود ہوں گے، برکات و انوار کا مشاہدہ کرنے والے وجود ان کے سامنے ہوں گے اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے وہ زیادہ سرعت سے جنت حاصل کریں گے۔چنانچہ موجودہ نشان، جو خدا تعالیٰ نے مصلح موعود کی ہے پیشگوئی کے سلسلہ میں ظاہر کیا اس کو دیکھ لو کہ کس طرح اس نشان کے بعد تمہارے لیے جنت اور زیادہ قریب کر دی گئی ہے۔لوگ اس تقریب پر بڑی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔مگر جہاں تک لفظی خوشی کا تعلق ہے مجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن جہاں تک ہے حقیقی خوشی کا تعلق ہے اس کے بعد آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، کم نہیں ہو تیں۔