خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 747 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 747

خطبات محمود آ 747 $1944 ایسے لوگ بھی بیٹھتے ہیں جو داڑھیاں منڈواتے ہیں اور آپ اُن کو داڑھی منڈوانے سے روکتے بھی نہیں۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا تعلق تو محبت کا ہے۔جب ان لوگوں کو ہمارے ساتھ محبت ہو گی اور یہ دیکھیں گے کہ ہم داڑھی رکھتے ہیں اور داڑھی کا رکھنا پسند کرتے ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی تھی اور آپ اسے پسند کرتے تھے تو خود بخو د ر کھنے لگ جائیں گے اور اس کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے گی کہ مجبور کر کے ان کو داڑھی رکھوائی جائے یا کوڑے ای مار کر یا سزا دے کر رکھوائی جائے۔جب ان کے اندر عشق پید اہو گا تو اس عشق کی وجہ سے یہ خود بخود رکھنے لگ جائیں گے۔3 تو بے شک ان معنوں میں تو ہم نے حکم نہیں دیا کہ تماشے وغیرہ نہ دیکھے جائیں جن معنوں میں حکومت کے احکام ہوتے ہیں ورنہ ہدایت بھی حکم ہی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہاں یہ حکم دیا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھایا جائے اور نہ یہ ضروری ہے کہ آپ کا کوئی ایسا حکم معین الفاظ میں ہی ہو تو اُس کو مانا جائے۔ہر مومن جب دیکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے کھاتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے اور بعض دوسروں کو آپ نے اس کی ہدایت کی تو وہ اس پر عمل کرنا ضروری سمجھتا ہے۔اور اگر وہ اس پر عمل نہیں کرے گا تو یقینا اس کے ایمان میں رخنہ پیدا ہو گا۔تو یہ بات ہی میں غلط ہے کہ ہر بات کے لیے حکم ہی ہو تو اس پر عمل ہو گا ورنہ نہیں۔اگر ہر بات کے لیے حکم ہوا تو وہی مثال ہو گی جیسے کہتے ہیں کوئی آقا تھا جو اپنے نوکروں پر بہت سختی کیا کرتا تھا۔ایک شخص اُس کے پاس آکر نو کر ہوا اور اُس نے کہا کہ جناب مجھے لکھ کر دے دیجیے کہ مجھے کیا کیا کام کرنے ہوں گے۔اگر میں ان میں سے کسی میں بھی کوتاہی کروں تو جو سزا چاہیں دیں۔اور اگر میں میں آپ کے وہ تمام احکام بجالاؤں تو پھر آپ کو خفگی کا کوئی حق نہ ہو گا۔آقا بے وقوف تھا وہ دھوکے میں آگیا اور اُس نے خیال کیا کہ اب یہ اچھی طرح قابو آجائے گا۔وہ لکھنے بیٹھ گیا اور ہے بہت دیر تک سوچ سوچ کر اُس نے ایک لمبی فہرست تیار کی اور نوکر کو دے دی۔نو کر کچھ دن وہ تمام کام کرتارہا۔ایک دن آقا گھوڑے پر سوار تھا اور نوکر ساتھ چلا جارہا تھا کہ گھوڑا ہرک گیا ہے اور ایسا بھا گا کہ آقا نیچے گر گیا۔مگر اُس کا ایک پاؤں رکاب میں پھنسارہ گیا۔گھوڑا بھاگا جارہا تھا اور وہ ساتھ ساتھ کھسٹتا جا رہا تھا۔اُس نے نوکر کو آواز دی کہ بھاگ کر آؤ اور میرا پیر