خطبات محمود (جلد 25) — Page 712
خطبات محمود 712 $1944 بچا کر ان مولوی صاحب کے پاس جمع کرا تا گیا کہ شادی پر خرچ کروں گا۔اب سو یا دو سو روپیہ جمع ہو گئے تو میں نے ان سے واپس مانگے مگر اس پر یہ مجھے گالیاں دیتے اور جھڑ کتے جاتے ہیں اور میری رقم دینے سے انکار کرتے ہیں۔تو ان لوگوں میں سے دیانت اور امانت بالکل مٹ گئی ہے ہے اور ایسے حالات میں آج اسلام جس قدر مدد کا محتاج ہے وہ ظاہر ہے۔جس قدر مدد کا محتاج آج اسلام ہے اور کوئی مذہب نہیں۔فرض کرو اگر عیسائیت دنیا میں غالب آجائے تو اس کے لیے معنے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کا نام دنیا سے مٹ گیا۔بدر کے موقع پر جب مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی یعنی وہ تین سو کے قریب تھے اور کفار کا لشکر بہت زیادہ تھا اور بظاہر مسلمانوں کے غلبہ کی کوئی صورت نہ تھی اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر آج یہ مسلمانوں کا چھوٹا سا گر وہ مٹ گیا تو دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی ہے باقی نہ رہے گا۔2ے وہی حال آج احمدیت کا ہے اگر یہ غالب نہ آئے، اگر احمدیت کا درخت مر جھا کر رہ گیا تو دنیا میں خداتعالی کا نام لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔پس چاہیے کہ ہمارے سامنے خواہ کس قدر مشکلات ہوں ہم اپنے خون کے آخری قطرہ تک کو خد اتعالیٰ اور اسلام کی راہ میں بہادیں۔اور اگر ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں، اگر ہم اس قربانی سے ہچکچاتے ہیں، اگر ہمیں ایسا کرنے میں کوئی تامل ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونا محض ایک دکھاوا ہے، قریب ہے، مکاری ہے اور دغا بازی می۔ہے۔دنیا میں لوگ انسانوں سے دھوکا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے فریب کرتے ہیں اور دغا بازی سے کام لیتے ہیں اور شریف لوگ ایسے لوگوں کو ادنی اخلاق کا اور بہت گرا ہوا سمجھتے ہے ہیں۔لیکن اگر ہم اس وقت خدا تعالی کی آواز پر لبیک نہ کہیں گے ، اگر اسلام کے لیے قربانی ہے کرنے سے ہچکچائیں گے تو ہم اُن لوگوں سے بھی گئے گزرے سمجھے جائیں گے جو ایک دوسرے سے دھو کا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ لوگ باوجود اپنے گرے ہوئے اخلاق کے اپنے لیڈروں کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ہم اگر خداتعالی کی آواز پر بھی لبیک نہ کہیں تو ہم سے وہ دنیا دار لوگ ہی ہے اچھے ہوں گے۔اور یہ ایک ایسا بدترین مظاہرہ ہو گا جو ہمیں انسانیت کے درجہ سے گرا کر حیوانیت کے درجہ پر پہنچا دے گا۔بے شک قربانیوں کا رستہ لمبا ہوتا جاتا ہے مگر اچھی طرح ہے