خطبات محمود (جلد 25) — Page 7
خطبات محج محمود 7 $1944 ہندوستانیوں کی یہ ذہنیت ہے کہ اگر وہ فوج میں با قاعدہ کام نہ کرتے ہوں، انہیں ملازمت سے بر طرف کیے جانے یا تنخواہ کے بند ہو جانے کا ڈر نہ ہو اور وہ اسی طرح رضا کارانہ رنگ میں کام کر رہے ہوں جس طرح ہماری جماعت کام کر رہی ہے تو اگر ان کا امام یا لیڈر انہیں یہ کہے کہ چلو ! دشمن پر حملہ کرو اور وہ بڑی امیدوں اور بہت بڑی امنگوں کے بعد ایسا حکم دے تو ان میں سے کوئی شخص یہ کہنے لگ جائے گا کہ حملہ کے لیے اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے میں اپنے کپڑے تو گھر سے لے آؤں۔کوئی کہے گا میں اپنا مال تو کسی محفوظ جگہ میں رکھ لوں۔کوئی کہے گا میں اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کا سامان تو کرلوں۔غرض کوئی کچھ بہانہ بنانے لگ جائے گا اور کوئی کچھ۔ان چیزوں کے ہوتے ہوئے صرف ظاہری سامانوں کے ساتھ کسی جماعت کا اپنی کامیابی کی امید رکھنا بالکل غلط ہوتا ہے۔کامیابی اسی جماعت کو حاصل ہوتی ہے جسے جن الفاظ میں حکم ہے دیا جائے وہ ان الفاظ کی اتباع کرے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اطاعت سے انحراف نہ کرے۔مثلاً مجھے یہاں آتے ہی مقامی امیر صاحب نے بتایا کہ دوستوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ مصافحہ نہ کریں۔میں نے کہا یہ تو آپ نے ٹھیک کیا کہ ایسا اعلان کر دیا کیونکہ میں نے جلدی واپس جاتا ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ لوگ اس امر کی کہاں تک تعمیل کرتے ہیں۔میں نے ہے دیکھا ہے کہ ایسے مواقع پر جب یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ کوئی شخص مصافحہ نہ کرے تو پھر بھی کوئی نہ کوئی شخص آگے بڑھ کر مصافحہ کر لیتا ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ مصافحہ کرنا تو منع تھا تم نے مصافحہ کیوں کیا؟ تو وہ شور مچانے لگ جاتا ہے کہ کوئی شخص مصافحہ نہ کرے۔حالانکہ وہ خود مصافحہ کر چکا ہوتا ہے۔پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو چودھری سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس قسم کے حکم کی فرمانبرداری دو سروں پر فرض ہے ان پر تم نہیں۔حالانکہ جو شخص اپنے آپ کو قوم میں سے اعلیٰ فرد سمجھتا ہے، جو خیال کرتا ہے کہ میں ہے دوسروں سے زیادہ مقرب ہوں یا جماعت کا افسر اور اس کا عہدہ دار ہوں اسے اطاعت اور فرمانبرداری کا بھی دوسروں سے اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہیے۔مگر ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستقلی سمجھ لیتا ہے۔اول تو ایسے موقع پر جب خلیفہ یا کوئی اور افسر آرہا ہو اسے اطلاع دینی چاہیے کہ ، ہم نے ایسا قانون بنا دیا ہے تاکہ اسے بھی معلوم ہو کہ کس قانون کا اعلان کیا گیا ہے اور اور وہ