خطبات محمود (جلد 25) — Page 684
خطبات محمود 684 $1944 بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ 18 یعنی اگر کوئی شخص مرنے لگے اور مال و دولت اُس کے پاس ہو تو وہ کچھ روپیہ غرباء کی بہبودی اور دین کی خدمت کے لیے وقف کر دے۔گو اس آیت کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں کہ رشتہ داروں کو وصیت کر جائے کہ شریعت کے مطابق اُس کی جائیداد کی تقسیم ہو۔لیکن اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جب کسی شخص کے ہم پاس ضرورت سے زیادہ مال ہو تو وہ موت کے وقت ایک حصہ کی وصیت کر جائے۔اور جہاں کسی آیت کے دو معنے ہو سکتے ہوں وہاں دونوں لیے جائیں گے۔یہ نہیں ہو گا کہ ایک معنے ترک کر دیے جائیں اور دوسرے معنے لے لیے جائیں۔اس وقت میں خصوصیت اپنی جماعت کے تاجروں اور صناعوں صنعت و حرفت اور تجارت کی اِن ذمہ داریوں میں سے تین باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔یوں تو بارہ کی بارہ ہدایات ہی اس قابل ہیں کہ ان کی طرف ہمیشہ اور ہر آن توجہ رکھی جائے۔لیکن اس وقت خصوصیت کے ساتھ میں تین باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اول_ تَعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى دوم - حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً سوم۔مزدور کے حق کی ادائیگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔اگر تو اپنی بیوی کے منہ میں ثواب کی نی نیت سے لقمہ ڈالتا ہے تو یہ بھی تیری طرف سے ایک صدقہ ہے۔19 بیوی انسان کی ایک نہایت ہی پیاری چیز ہوتی ہے جسے انسان کھلاتا پلاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گو تمہارا اپنی بیوی سے پیار ایک نفسیانی بات ہے گو جذباتی لحاظ سے تم اُس سے محبت رکھتے ہو اور گو اپنی شہوات کو پورا کرنے کے لیے تم اس سے محبت کرتے ہو اور اسے اچھا کھلاتے اور اچھا پہناتے ہو لیکن اگر تم اپنی بیوی کی خاطر تواضع کرتے ہوئے اُس سے پیار اور محبت کرتے ہوئے یہ نیت کر لیا کرو کہ چونکہ خدا کا حکم ہے کہ بیویوں سے محبت کی جائے اس لیے میں محبت ہے کرتا ہوں۔اور چونکہ خدا نے ان کو کھلانے کا حکم دیا ہے اس لیے میں اسے کھلاتا ہوں تو تمہارا ہے یہ کام شہوانی نہیں رہے گا بلکہ دین بن جائے گا۔خواہ تمہارا وہ کام صرف اتنا ہو کہ تم نے