خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 674

خطبات محمود 674 $1944 اور ایسی صنعتیں اختیار کی جائیں جو دین کی تقویت کا موجب ہوں وہاں آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا بھی اِس آیت میں حکم پایا جاتا ہے۔آخر ایک شخص کی تجارت کیوں چل نکلتی ہے اور دوسرے شخص کی تجارت کیوں رہ جاتی ہے ؟ اسی لیے کہ ایک شخص کو تجارت میں کامیابی حاصل کرنے کے گر معلوم ہوتے ہیں اور دوسرا شخص تجارت کے اصول سے ناواقف ہو تا ہے۔ایک شخص جانتا ہے کہ سودا کہاں سے ستا ملتا ہے، سودا کس طرح فروخت کرنا چاہیے، کسی منڈی میں بیچنے سے زیادہ نفع حاصل ہوتا ہے اور کس منڈی میں بیچنے سے کم نفع حاصل ہوتا ہے۔مگر دوسرا شخص ان باتوں کو نہیں جانتا۔پس اگر ہماری جماعت کے تاجر اپنی ہی تجارت کے ساتھ ساتھ کسی اور آدمی کو بھی تجارت کا کام سکھا دیں اور اُسے بھی تجارت کے رازوں سے واقف کر دیں تو یہ بھی ایک قومی تعاون ہو گا اور اس کے نتیجہ میں بھی وہ بہت بڑے ثواب کے مستحق ہوں گے۔اسی طرح اگر ایک شخص کو کوئی پیشہ یا ہنر آتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس پیشہ یا ہنر کو اپنے پاس بھی نہ رکھے بلکہ دوسرے کو بھی سکھا دے۔پرانے زمانہ میں لوگوں کو یہ عادت تھی کہ وہ بعض ہنر مخفی رکھتے تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہنر اُن کے ساتھ ہی چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے زخموں کو اچھا کرنے کا ایک نہایت ہی اعلیٰ درجے کا نسخہ معلوم تھا۔دور دور سے لوگ اُس کے پاس علاج ہے کے لیے آتے اور فائدہ اٹھاتے مگر وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنے بیٹے کو بھی اُس مرہم کا نسخہ نہ بتاتا اور کہتا کہ یہ اتنا بڑا ہنر ہے کہ اس کے جاننے والے دو آدمی ایک وقت میں نہیں ہو سکتے۔بیٹے نے می بہتیری منتیں کیں اور کہا کہ مجھے یہ نسخہ آپ بتا دیں مگر وہ یہی جواب دیتا کہ مرتے وقت تمہیں بتاؤں گا اس سے پہلے نہیں بتا سکتا۔بیٹا کہتا کہ موت کا کوئی پتہ نہیں وہ کس وقت آجائے آپ مجھے ابھی یہ نسخہ بتادیں۔مگر باپ آمادہ نہ ہوا۔آخر ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور سخت نازک حالت ہو گئی۔بیٹا کہنے لگا باپ! مجھے اب تو نسخہ بتادیں۔مگر وہ جواب دیتا کہ میں مرتا نہیں اچھا ہو جاؤں گا۔پھر اور حالت خراب ہوئی تو بیٹے نے پھر منتیں کیں مگر اُس نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا تو سمجھتا ہے میں مرنے لگا ہوں؟ میں تو ابھی نہیں مرتا۔غرض اسی طرح وہ جواب دیتا رہا