خطبات محمود (جلد 25) — Page 671
خطبات محمود 671 $1944 یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے لوہے کے کارخانہ سے یہ روپیہ کمایا ہے، خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے مٹی کے تیل کی تجارت سے یہ روپیہ کمایا ہے ، خواہ کسی چیز کی تجارت سے اُس نے روپیہ کمایا ہو اُس میں ساری دنیا کا حصہ ہے اور اُس کا فرض ہے کہ وہ اس حصہ کو ادا کرے اور اگر وہ بغیر اس ٹیکس کو ادا کرنے کے روپیہ اپنے گھر میں لے جاتا ہے تو وہ چور ہے، ڈاکو ہے، دھوکے باز ہے اور قطعاً اسلام اُسے مومن کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ہاں ایک بات یادر کھنی چاہیے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں چونکہ ٹیکس ڈہرا ہو گیا ہے یعنی گورنمنٹ بھی ٹیکس لیتی ہے اور اسلام بھی ایک ٹیکس لیتا ہے اس لیے جس پر گورنمنٹ کی طرف سے ٹیکس عائد ہوتا ہو اگر اس کے ٹیکس کی رقم زکوۃ کے برابر یاز کوۃ سے زیادہ ہو تو پھر زکوۃ دینا اُس پر واجب نہیں ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ جمع شدہ مال پر ٹیکس نہیں لیتی بلکہ آمد پر ٹیکس وصول کرتی ہے۔لیکن اسلام اس مال سے زکوۃ وصول کرتا ہے جو انسان کے پاس جمع ہو اور جس پر سال گزر گیا ہو۔فرض کرو ایک شخص دس ہزار روپیہ ا سالانہ کماتا ہے اور گور نمنٹ اُس سے ٹیکس لے لیتی ہے اور وہ ٹیکس زکوۃ سے زیادہ ہے تو ہم کہیں گے اب ایسے شخص پر زکوۃ واجب نہیں۔جیسے زمیندار سے بھی گورنمنٹ مالیہ وصول کر لیتی ہے تو اس کے بعد اگر وہ مالیہ زکوۃ کے برابر یا اُس سے زیادہ ہوتا ہے تو اُس پر زکوۃ واجب نہیں رہتی۔لیکن اگر کوئی زمیندار معاملہ ادا کرنے کے بعد اپنے اخراجات میں کفایت سے کام لینا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح وہ کچھ روپیہ پس انداز کر لیتا ہے جس پر ایک سال گزر جاتا ہے تو اُس روپیہ پر زکوۃ کا حکم عائد ہو جائے گا۔فرض کرو اس نے کفایت کرتے کرتے پانچ ہزار روپیہ جمع کر لیا ہے اور اس پانچ ہزار روپیہ پر ایک سال گزر گیا ہے تو اسلام کی طرف سے ہے اُس پر زکوۃ کا ٹیکس لگ جائے گا۔پس جمع شدہ مال پر جب سال گزر جائے اور وہ مال زکوۃ کے نصاب کے اندر ہو تو شریعت کی طرف سے زکوۃ کا حکم انسان پر عائد ہو جاتا ہے۔خواہ وہ زمیندار کامال ہو یا تاجر کا ہو یا کسی اور کا ہو۔ہاں ! اُس مال میں سے جس پر ٹیکس گورنمنٹ نے زکوۃ کے برابر یا اس سے زائد لے لیا ہو بچا ہوا روپیہ اگر سال ہی میں خرچ ہو جائے تو اس پر