خطبات محمود (جلد 25) — Page 672
خطبات محمود 672 $1944 زکوۃ واجب نہیں ہے۔مگر کچھ نہ کچھ رقم ثواب میں شمولیت کے لیے طوعی طور پر انسان کو پھر بھی دینی چاہیے۔ہاں! اگر انکم ٹیکس یا مالیہ کم ہو اور زکوۃ یا عشر اُس پر زیادہ عائد ہوتا ہو تو پھر جتنی کمی رہ جائے گی اس کو پورا کرنا اس کا فرض ہو گا۔فرض کرو زکوۃ کے میں روپے کسی شخص کے ذمہ تھے۔گورنمنٹ نے ٹیکس کے ذریعہ پندرہ روپے وصول کر لیے تو باقی پانچ روپے اسلام کا قائم کر دہ نظام اُس سے ضرور وصول کرے گا۔لیکن اگر گور نمنٹ نے اُس سے ٹیکس اکیس روپے لے لیے ہیں تو پھر زکوۃ اُس پر واجب نہیں ہوگی۔زکوۃ کا حکم ایسے شخص پر اُسی صورت میں عائد ہو گا جب وہ اپنی آمد کو جمع رکھے اور پھر اُس جمع شدہ مال پر جب وہ نصاب سے زائد ہو ایک سال گزر جائے۔چوتھی بات میں نے یہ بتائی تھی کہ اسلام نے ایک یہ حکم بھی اپنے ماننے والوں کو دیا ہے ہے جن میں تاجر اور صناع خصوصیت سے شامل ہیں کہ وہ تنگی کی حالت میں بھی انفاق سے کام لیں۔اِس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر بھی توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَ الْمَحْرُومِ 16 یعنی اُن کو بھی دو جو سوال کرتے ہیں، اُن کو بھی دو جو سوال نہیں کر سکتے۔اور اُن کو بھی دو جو سوال کر ہی نہیں سکتے۔سوال نہ کر سکنا کئی طرح سے ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص گونگا ہوتا ہے اور وہ بول ہی نہیں سکتا۔یا جانور ہیں کہ وہ جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو دوسرے سے کوئی سوال نہیں کر سکتے۔دنیا میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی جانور بوڑھا ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے تو لوگ اُسے مار کر اپنے گھر سے نکال دیتے ہیں اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں رہتا۔ایسے جانوروں کو پالنا مالک کا کام ہوتا ہے یا پھر حکومت کا فرض ہو تا ہے کہ وہ مالک کو مجبور کرے کہ اُس جانور کو اپنے گھر میں رکھے۔آخر یہ کوئی انصاف نہیں کہ جب تک کسی جانور سے کمائی کی جاسکتی تھی اُس وقت تک تو اُسے کھلایا پلایا اور جب وہ بوڑھا ہو گیا اور کام کے قابل نہ رہا تو اُسے مار کر اپنے گھر سے باہر نکال دیا۔گائے اور بیل ایسے جانور ہیں جن کے بوڑھایا ناکارہ ہونے پر لوگ ان کو ذبح کر لیتے ہیں مگر گھوڑا اور گدھا وغیرہ ایسے جانور ہیں جن کو ذبح نہیں کیا جاسکتا۔پس اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَق لسايل والمَحْرُومِ لوگوں کے اموال میں اُن کا بھی حق ہے جو محروم ہیں اور بولنے کی من