خطبات محمود (جلد 25) — Page 6
خطبات محمود 6 $1944 کے اصول کیا سکھانے تھے اس کے اپنے کاموں میں بھی کوئی باقاعدگی نہ پائی جاتی تھی مگر اس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا اب میں بھی اپنے نوکر کو ایسی ہی تہذیب سکھاؤں گا۔چنانچہ اس نے واپس جا کر اپنے نوکر کو سکھانا شروع کر دیا مگر وہ اجڈ، ان پڑھ اور جاہل تھا۔اس پر ان کے سبتوں کا کیا اثر ہو سکتا تھا۔پانچ چھ ماہ گزر گئے تو اس نے اپنے شہری دوست کی دعوت کی اور ہے اسے کہا کہ گاؤں کی آب و ہوا بہت اچھی ہوتی ہے آپ میرے ہاں تشریف لائیں۔چنانچہ وہ یہ اس دعوت پر اس کے گاؤں میں گیا۔جب دستر خوان بچھا تو اس نے بھی اس کی نقل کرنی شروع کر دی۔زمینداروں کے گھروں میں عام طور پر دہی ہوتا ہے مگر اس نے چونکہ اپنے دوست کو یہ بتانا تھا کہ میر انو کر بھی بڑا ہوشیار اور فرض شناس ہے اس لیے اسے آواز دے کر کہنے لگا میاں ! ذرا جانا اور فلاں دکاندار کے ہاں سے دہی تو لے آنا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا میر انو کر بھی بڑا ہوشیار اور مؤدب ہے اب وہ فلاں جگہ پہنچ چکا ہو گا۔تھوڑی دیر کے بہ کہنے لگا مجھے یقین ہے کہ اب وہ دکان تک پہنچ چکا ہو گا۔پھر کہنے لگا اب وہ دہی لے رہا ہو گا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب وہ دہی لے کر وہاں سے ضرور چل پڑا ہے۔ایک منٹ کے بعد کہنے لگا اب وہ فلاں جگہ پہنچ چکا ہو گا۔پھر کچھ وقت گزرا تو کہنے لگا کہ اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر ڈیوڑھی میں پہنچ چکا ہے۔چنانچہ اسے آواز دے کر کہنے لگا کیوں میاں! دہی لے آئے ؟ تو کر کہنے لگا " تمیں اپنے کا ہلے کیوں پے گئے ہو! میں بخشی تے لب لواں۔فیر دی ہے بھی لے آواں گا"۔یعنی آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں! میں جوتی تو تلاش کرلوں پھر دہی بھی لے آؤں گا۔اب بتاؤ! ایسے انسان جس کے تحت ہوں اُس نے دشمن سے کیا مقابلہ کرنا ہے۔مقابلہ کی جرات تو وہی کرتا ہے جو دل میں یہ یقین اور وثوق رکھتا ہو کہ میرے ہر حکم کی لوگ اطاعت کریں گے اور جانتا ہو کہ جب بھی میں کوئی حکم دوں گا وہ نتائج اور عواقب کی پروا کیے بغیر اس کی تعمیل پر کمر بستہ ہو جائیں گے۔اگر میں کہوں گا اٹھو! تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔اگر کہوں گا بیٹھو ! تو وہ بیٹھ جائیں گے۔اگر کہوں گا آگے بڑھو ! تو وہ آگے بڑھیں گے۔اور اگر کہوں گا پیچھے ہٹوا تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔مگر آجکل ہمارے زمانہ میں بالخصوص