خطبات محمود (جلد 25) — Page 5
خطبات " محمود 5 $1944 میں نے جو بھی حکم دیا لوگ اس کی اطاعت کریں گے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ 3 کہ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے جس کے پیچھے ہو کر لڑائی لڑی جاتی ہے۔جب وہ ڈھال آگے کرتا ہے تو جماعت بھی آگے ہوتے جاتی ہے اور جب پیچھے کرتا ہے تو جماعت بھی پیچھے ہو جاتی ہے۔جب تک یہ بات کسی جماعت میں پیدا نہ ہو اور جب تک امام کو یہ معلوم نہ ہو کہ لوگوں کے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کی ایسی روح پائی جاتی ہے کہ اگر میں کہوں گا بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں گے ، اگر کہوں گا کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں گے ، اگر کہوں گا لیٹ جاؤ تو سب لیٹ جائیں گے اُس وقت تک و کبھی دلیری سے دشمن پر حملہ نہیں کر سکتا۔مشہور ہے کہ کوئی شخص کسی کے گھر مہمان آیا۔اس نے اپنے نوکر کو ہر قسم کے ضروری آداب سکھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بر وقت اور نہایت عمدگی سے کام کرنے کا عادی تھا۔اتفاقاً مہمان کے سامنے میزبان کو کسی چیز کی ضرورت پیش آگئی۔مثلاً دہی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس نے اپنے نوکر کو دہی لینے کے لیے بازار بھیج دیا اور اس دوست وہ سے کہا، میر انو کر بہت مؤدب اور فرض شناس ہے جو کام بھی اسے کرنے کے لیے کہا جائے ٹھیک وقت کے اندر اسے سر انجام دیتا ہے۔چنانچہ کہنے لگا دیکھ لیجیے میں نے اسے دہی لینے کے لیے بازار بھیجا ہے اور دکان تک دومنٹ کا راستہ ہے اب چونکہ ایک منٹ گزر چکا ہے اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ فلاں جگہ تک پہنچ گیا ہو گا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دکان تک پہنچ گیا ہو گا۔پھر منٹ دو منٹ انتظار کرنے کے بعد جو سودا خریدنے پر صرف ہو سکتے تھے وہ کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر وہاں سے چل پڑا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب وہ فلاں نکڑ تک پہنچ گیا ہے۔کچھ اور دیر گزری تو کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ اب وہ یہ ڈیوڑھی میں آچکا ہے۔چنانچہ اس نے آواز دی کہ کیوں میاں! رہی لے آئے؟ نوکر کہنے لگا حضور !حاضر ہے۔یہ نمونہ ایسا اعلیٰ تھا کہ اسے دیکھ کر ہر شخص کی طبیعت خوشی محسوس کرتی تھی۔چنانچہ مہمان بھی بہت خوش ہوا اور اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ میں بھی اپنے نوکر کی ایسی ہی تربیت کروں گا مگر وہ مہمان خود اجڈ اور جاہل تھا۔اس نے اپنے نوکر کو تہذیب و شائستگی ہے ،