خطبات محمود (جلد 25) — Page 498
خطبات محمود 498 $1944 مبلغ کے رہنے کا مکان ہوتا کہ اس مرکز سے تبلیغ اسلام وسیع طور پر کی جاسکے اور فارسی، پشتو اور ان علاقوں کے لیے دوسری مناسب زبانوں میں وہاں پر لٹریچر رکھا جائے۔اسی طرح دوسرا مرکز کراچی ہے۔یہ شہر ایران، بلوچستان اور عراق کا مرکز ہے۔عرب کا دروازہ ہے جو ملک ہمارے لیے اسلام اور ہدایت کا موجب ہوا۔ایک حصہ افغانستان کا بھی ملتا ہے اور پھر ایک طرف سے کچھ مارواڑ کا علاقہ ہے۔پس ان تمام علاقوں کے لیے کراچی بھی ایک اہم مرکز ہے۔وہاں بھی ہماری ایک مسجد اور اُس کے ساتھ لائبریری اور مہمان خانہ اور مبلغ کے لیے رہنے کا مکان ہونا چاہیے۔اور عربی، فارسی، پشتو، سندھی وغیرہ زبانوں میں ان ممالک کے لیے لٹریچر ہو تو یہاں سے بہت دور دور تک تبلیغ پہنچائی جاسکتی ہے۔پھر ہندوستان میں اسی قسم کی ایک اہم جگہ بمبئی ہے۔یہ ہندوستان میں دوسرے نمبر کا شہر ہے اور غالباً تمام دنیا میں چھٹے درجہ کا ہے اور پھر اس لحاظ سے بھی یہ جگہ اہم ہے کہ یورپ کا دروازہ ہے۔پھر حج کے لیے جانے کا بھی مرکز ہے، افریقہ کا بھی راستہ ہے، مشرقی افریقہ کے تمام ممالک کے جہاز یہیں آکر ٹھہرتے ہیں۔پس یہ بھی بہت بڑا مرکز ہے جو یورپ، مصر، شام، فلسطین، عدن ، یمن اور حج کو جانے والوں کا مرکز ہے۔اس لیے یہ جگہ بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔یہاں پر بھی ہماری مسجد ، مہمان خانہ، لائبریری اور مبلغ کے رہنے کا مکان ہو نا چاہیے اور مختلف زبانوں کا لٹریچر رکھا جائے۔بڑے بڑے شہروں میں لوگوں کو رہنے کے لیے جگہ نہیں ملتی اور اگر مل بھی جائے تو بہت خرچ ہوتا ہے۔اس لیے اگر ہمارا مہمان خانہ ہو تو ہمارا کوئی زیادہ خرچ نہیں ہو گا مگر تبلیغ کے لیے بہت مفید ہو گا اور اشاعت اسلام کا ذریعہ بن جائے گا۔چوتھی جگہ مدراس ہے جو تمام جزائر سیلون، سماٹرا، جاوا، سٹریٹ سیٹلمنٹ کا دروازہ ہے، برما اور جاپان کا بھی دروازہ ہے ہے، اسی طرح ساؤتھ امریکہ کا دروازہ ہے۔اور یہاں پر بعض پرانی قومیں آباد ہیں جن کو ڈریویڈینز (DRAVIDIANS) کہتے ہیں۔ان کی زبان بھی پرانی ہے، یہاں بیٹھے بیٹھے اُن کو تبلیغ نہیں ہو سکتی۔اس لیے ہمارا ایک مرکز مدراس میں ہو ناضروری ہے۔اس قسم کا پانچواں مقام کلکتہ ہے جو ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے جو ایک طرف۔