خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 497

$1944 497 خطبات محمود ان کے اندر سے روحانی پرندے پیدا ہوتے ہیں اور اُن پر خدا کی برکات نازل ہوتی رہتی ہیں۔پس اس نکتہ کے ماتحت میں نے ایک فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان آج کے خطبہ میں کرنا چاہتا ہوں ( قادیان سے باہر ہونے کی حالت میں اعلان کرنے کا افسوس بھی ہے کہ ایک محدود طبقہ میں ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسا سامان دے رکھا ہے کہ خطبہ شائع ہو کر تمام جماعت تک چ جاتا ہے)۔میں نے سوچا ہے کہ ہندوستان میں اشاعت اسلام میں جو کوتاہی ہوئی ہے اس می کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے موزوں جگہوں میں مرکز بنانے کی طرف توجہ نہیں کی جو ہندوستان اور ہندوستان سے باہر اشاعت اسلام کے لیے بیج کا کام دیں۔اور۔اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہندوستان میں جو اہمیت رکھنے والی جگہیں ہیں وہاں پر ایسے مراکز قائم کیے جائیں جن کے اخراجات کا ایک حصہ گولو کل جماعت پر ڈالا جائے مگر چونکہ وہ مقامات بہت گراں ہیں اور وہاں کی جماعتیں چھوٹی ہیں اس لیے ہم بھی مرکزی ذمہ داری اور جماعتی نظام کے ماتحت ان کی امداد کریں اور کمی کو مرکز سے پورا کریں۔جس طرح گورنمنٹ سرحدوں پر بعض انتظامات کے لیے خرچ کرتی ہے۔مگر چونکہ اُن اخراجات کا موجب مقامی ضروریات نہیں ہو تیں بلکہ فوجی ضروریات ہوتی ہیں اس لیے وہ اس کا ایک حصہ ملٹری ضروریات کے لحاظ سے مرکز پر ڈال میں دیتی ہے اور فیصلہ کر دیتی ہے کہ اگر آمد خرچ سے کم رہی تو اس کمی کو ملٹری پورا کر دے گی۔ی طرح اگر ہم بھی اس قسم کے مراکز قائم کرنے کا بوجھ مرکزی جماعت پر ڈال دیں کہ جو کمی ہے رہ جائے اُس کو جماعتی ذمہ داری کے ماتحت پورا کیا جائے تو اس سے اشاعتِ اسلام کا کام زیادہ آسان ہو جائے گا۔میں نے سوچا ہے کہ ہندوستان میں اس طرح کی سات جگہیں ہیں جن جگہوں میں ہمارے مرکز قائم ہونے ضروری ہیں۔ان میں سے ایک جگہ پشاور ہے جہاں پر ہمارا مرکز ہونا ضروری ہے۔گو وہاں پر ہماری مسجد موجود ہے مگر وہ چھوٹی ہے۔یہ شہر صوبہ سرحد کا دار السلطنت ہونے کے علاوہ یہ اہمیت بھی رکھتا ہے کہ ایک طرف افغانستان کا دروازہ ہے ایک طرف روس ہے اور ایک طرف ہندوستان ہے۔گویا یہ شہر ایک قسم کا سہ حدہ ہے۔یہاں پر ہمارا ایک مضبوط مرکز ہونا چاہیے جس میں ایک بڑی مسجد ہو ، لائبریری ہو ، مہمان خانہ ہو ،