خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 496

خطبات محمود 496 $1944 پتہ پوچھو۔اُس نے ان سے پتہ دریافت کیا تو موٹر سائیکل والا شخص کہنے لگا لنڈن ماسک (London Mosque)۔ہاں میں جانتا ہوں۔چنانچہ وہ ہمارے ساتھ آیا اور مسجد کے دروازہ تک چھوڑ کر واپس گیا۔جہاں وہ شخص ہمیں ملا تھا وہ جگہ مسجد سے کوئی دو اڑھائی میل کے فاصلہ پر تھی۔اب یہ مسجد کے نام کی خوبی تھی۔حالانکہ وہ ابھی بنی بھی نہیں تھی کیونکہ میں نے جاکر اس کی بنیاد رکھی تھی۔صرف مسجد کی جگہ کی وجہ سے وہ زمین "مسجد لنڈن " کے نام سے مشہور ہو گئی تھی۔اگر کرایہ کی جگہ پر نماز ہوا کرتی تو کسی کو بھی اس جگہ کا علم نہ ہوتا۔یہاں تک کہ سڑک کی نکڑ پر رہنے والوں کو بھی پسند نہ ہوتا۔پس جہاں پر جماعت کا مرکز ہو وہاں دین کا کام کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے اور ملنے کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بھی سہولت ہوتی ہے۔پھر یہ بات بھی ہے کہ جہاں پر مرکز ہو گا۔قدرتی طور پر جماعت کے لوگ بھی اُس کے ارد گرد مکان بنائیں گے تاکہ مرکز کے قریب رہیں، نہیں تو مکان اُس کے قریب کرایہ پر ہی لے لیں گے۔لیکن یہ خوبی کرایہ کی جگہ ہے میں نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اگر کسی شہر میں کرایہ کی جگہ لے کر اُس میں مبلغ رہتا ہے تو دوسرے لوگ اس طرح اُس کے قرب میں آنے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تم کرامیہ کی جگہ ہے۔اگر کل اس کو نکال دیا گیا تو پھر ہم کو بھی نکلنا پڑے گا۔لیکن اگر مستقل طور پر اپنا مرکز ہو تو پھر خواہ لوگوں کو اس کے آس پاس آ کر کرایہ پر رہنا پڑے وہ کوشش کریں گے کہ مرکز کے قریب رہیں اور اس طرح تبلیغ اور تربیت کے کام میں بہت آسانی ہو جاتی ہے۔پھر مسجد ایک ایسی جگہ ہے کہ پانچوں وقت الله اكبر الله اکبر کی آواز وہاں سے اٹھتی ہے جس کے ذریعہ سے تبلیغ ہوتی رہتی ہے۔مساجد کے اندر ایسا سامان بیج کے طور پر ہوتا ہے جس سے اسلام کی شعاع مسجد سے نکلنا شروع ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے پھر وہ اور شعاعوں کامرکز بن جاتا ہے۔پس یہ حدیث ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ جس طرح بھٹ تیتر زمین میں گڑھا کھودتا ہے اور اُس میں انڈے سیتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد اُس میں سے بچہ نکل آتا ہے اسی طرح مساجد بظاہر مٹی اور گارے کی بنی ہوئی ہوتی ہیں لیکن اتنے فوائد اپنے اندر رکھتی ہیں کہ ہے