خطبات محمود (جلد 25) — Page 446
$1944 446 خطبات محمود رہے گی احمدیت کی جڑیں مضبوط نہ ہوں گی۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتظام کے لحاظ سے قادیان کو مرکز قرار دیا ہے۔پس وہ مرکز رہے گا۔لیکن اگر تبلیغ اور تربیت پر بھی لمبی نگرانی نہ رہی تو عقیدہ اور عمل میں بگاڑ پید اہونالازمی ہے۔ان حالات کی اصلاح تبھی ہے ہو سکتی ہے کہ جماعت پورے طور پر اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور تبلیغ کرے۔اس طور پر کہ اگر وہاں ایک احمدی ہو تو اس کے مقابلہ میں یہاں تین ہوں۔جہاں جماعت باہر بڑھے تو ساتھ ہی یہاں کی جماعت بنیاد کے طور پر بڑھے۔کیونکہ بنیاد اوپر کی دیوار سے موٹی ہونی چاہیے۔یہ ایک اہم سوال ہے جس کے متعلق میں نے پچھلے خطبہ میں توجہ دلائی تھی۔گو میں نے یہ کہا تھا ؟ کہ یہ میری تنبیہہ آخری بار ہے لیکن پھر بھی یہ ایسا امر نہیں ہے کہ اسے ایک دفعہ کہہ کر چھوڑ دیا جائے بلکہ ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کا ہر سیکرٹری، ہر خطیب اس کو دُہراتا رہے کہ ہندوستان کی جماعت کو بڑھاؤ ورنہ خطرہ ہے کہ وہ مصفی تعلیم جو تیرہ سو سال کے بعد آئی ایسے ہاتھوں میں چلی جائے جو اسے ناپاک کر دیں۔پس میں پھر جماعت کو توجہ دلا کر اپنے فرض سے ہے سبکدوش ہو تا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خدا کے فضل نے دکھا دیا ہے کہ لوگوں کو توجہ ہے اور لوگوں کے دل ماننے کو تیار ہیں۔لوگ لٹریچر منگواتے ہیں، احمدیوں کو تلاش کر کے ان پوچھتے ہیں کہ ہم نے ایسا دعوی سنا ہے۔تعلیم یافتہ طبقہ خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہے۔پس یہ کہنا کہ سنتے نہیں یہ غلط ہے۔جہاں جماعتوں نے توجہ کی ہے لوگ سنتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ تعصب بھی دکھاتے ہیں اور روکیں پیدا کرتے ہیں۔لیکن روکیں مٹانا ہمارا فرض ہے۔خدا کے فرشتے اس کام پر لگے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے الہام ہے فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ 3 وقت آگیا ہے کہ سعید روحیں تیری مدد کریں اور تُو لو گوں میں روشناس کرایا جائے۔اور بھی الہامات ہیں جیسے يَا نَبِيَّ اللهِ كُنْتُ آخر 4 یہ الہام بتاتا ہے کہ آپ کو دنیا قبول کرے گی لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان می نعمتوں کو لے جانے والا کون ہو گا۔خواہ وہ لے جانے والا میر ابیٹا ہی ہو۔مگر خدا کی محبت کے مقابلہ میں مجھے بیٹے سے بھی رقابت پیدا ہو گی۔بچے مومن کو یہی شوق ہونا چاہیے۔جہاں تک میں