خطبات محمود (جلد 25) — Page 424
$1944 424 خطبات محمود ہو جائیں گے۔کوئی عمارت جو پتیلی بنیاد پر کھڑی کی جائے کبھی اونچی نہیں ہو سکتی۔جب بھی وہ اونچی ہو گی ٹیڑھی ہو جائے گی اور جب اور زیادہ اونچی ہو گی تو گر جائے گی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ہماری بنیاد چھوٹی ہے اور اوپر کی دیوار جلد جلد چوڑی ہو رہی ہے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بنیاد کو اور زیادہ چوڑا کیا جائے اور پھر اس بنیاد کو ہم چوڑا کرتے چلے جائیں تا کہ اس پر جو بھی عمارت تیار ہو وہ بنیاد کے مقابلہ میں چھوٹی ہو۔اور پھر جوں جوں وہ عمارت اونچی ہو ہمارا فرض ہے کہ ہم بنیاد کو اور بھی وسیع کرتے چلے جائیں۔تب احمدیت مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہو گی اور تب خدا کا دین ایک لمبے عرصہ تک محفوظ و مصئون صورت میں چلتا چلا جائے گا۔میں نے بعض جماعتوں کو خصوصیت سے تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں کچھ بیداری بھی پائی جاتی ہے مگر ابھی میں نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کچھ کام بھی کر کے دکھایا ہے یا نہیں۔مثلا لاہور کی جماعت کو میں نے تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے تھی۔وہاں سینکڑوں کی جماعت ہے مگر تبلیغ کرنے کا صرف پچیس تیس لوگوں نے وعدہ کیا۔اور پھر اُن پچیس تیس لوگوں کی کارگزاری کی جو پہلی رپورٹ میرے سامنے آئی اُس میں دس پندرہ کی نسبت یہ لکھا ہوا تھا کہ انہوں نے کہا، ہم نے اس ہفتہ میں تبلیغ یہ کی ہے کہ اسلام کی ترقی کے لیے دعا کی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغ کا ایک ذریعہ دعا بھی ہے مگر جب تبلیغی رپورٹ پیش کی جارہی ہو تو اس وقت یہ کہنا کہ ہم نے اس ہفتہ صرف دعا کی ہے دین اور مذہب سے تمسخر کرتا ہے۔گویا اول تو سینکڑوں کی جماعت میں سے صرف پچیس تیس آدمیوں نے اپنے آپ کو تبلیغ کے لیے پیش کیا اور پھر وہ پچھیں تھیں جنہوں نے وعدہ کیا تھا اُن میں سے بھی اکثر میدان جنگ سے بھاگ گئے۔حالانکہ لاہور کی جماعت میں سے تین چار سو بلکہ پانچ سوتی کے قریب ایسے آدمی نکل سکتے ہیں جو تبلیغ کریں۔اور قادیان میں سے تو تین چار ہزار آدمی ہیں مختلف علاقوں میں تبلیغ کے لیے جاسکتے ہیں۔میں نے گزشتہ دنوں یہاں تبلیغ کے لیے حلقے مقرر کرنے کی ہدایت دی تھی اور می میری غرض یہ تھی کہ لوگ وہاں متواتر جائیں اور تبلیغ کریں۔مگر انہوں نے بھی تبلیغ کو میں