خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 4

$1944 4 خطبات محمود پرندہ بیٹھا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سر ہلایا تو پرندہ اڑ جائے گا۔اگر کسی مجلس میں دس پندرہ آدمی بیٹھے ہوں اور ان میں سے ہر شخص کے سر پر پرندہ بیٹھا ہو اور ان میں یہ شرط طے پا جائے کہ ہمیں اس طرح سکون کے ساتھ بیٹھنا چاہیے کہ یہ پرندے ہمارے سروں پر۔اُڑیں نہیں تو جس خاموشی کے ساتھ وہ بیٹھ سکتے ہیں اُسی قسم کی خاموشی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے والوں پر طاری ہو ا کرتی تھی۔پرندہ انسان سے بہت بھاگتا ہے ہے۔پھر اگر پرندہ کسی انسان کے سر پر بیٹھا ہوا ہو تو اس کی ادنیٰ سے ادنی حرکت سے بھی اُڑ جائے گا مگر صحابہ ”جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تو ایسے ساکت اور ایسے خاموش ہوتے کہ اگر پرندے بھی ان کے سروں پر اُس وقت بیٹھے ہوتے تو انہیں یہ پتہ نہ چلتا کہ وہ درختوں پر بیٹھے ہیں یا آدمیوں کے سروں پر بیٹھے ہیں۔صحابہ کی یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ كَانَ عَلَى رُؤُوسِهِمُ الطُّيُورُ یعنی وہ قطعی طور پر خاموش رہتے تھے اور کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے تھے جو اس مجلس کے آداب کے خلاف ہو۔پس ہمیں بھی اپنے منی رض اندر وہ آداب پیدا کرنے چاہیں جو صحابہ کے اندر پائے جاتے تھے اور وہی قوتِ ایمان ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے جو صحابہ کے اندر پائی جاتی تھی۔جب تک ہم ان آداب کو اختیار میں نہیں کرتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں پائے جاتے تھے اُس وقت تک ہم ان فتوحات کی قطعی طور پر امید نہیں کر سکتے جو ہمارے لیے مقدر ہیں اور نہ ان فتوحات کی امید کر سکتے ہیں جو اسلام کو حاصل ہونے والی ہیں۔کیونکہ ان فتوحات کا ہمارے ساتھ تعلق ہے اور ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے نفوس کو ان فتوحات کا اہل ثابت کریں۔اگر ہم اپنے نفوس میں کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے، اگر ہم وہ آداب اختیار نہیں کرتے جو صحابہ نے اختیار کیے، اگر ہم اُس طریق عمل پر نہیں چلتے جس طریق عمل پر صحابہ چلے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان فتوحات سے محروم رکھ رہے ہیں جو فتوحات ہمارے ذریعے سے اسلام اور احمدیت کو حاصل ہونے والی ہیں۔کسی جماعت کی طاقت اور قوت کا صحیح معیار یہ ہوا کرتا ہے کہ اس جماعت کے امام کو یہ معلوم ہو کہ میرے احکام کی کس حد تک پابندی کی جائے گی اور در حقیقت وہی امام دنیا میں لڑائی لڑ سکتا ہے جو جانتا ہو کہ یہ