خطبات محمود (جلد 25) — Page 393
$1944 393 خطبات محمود فرمانبر داری نہیں کرتا اور سلسلہ کے کام میں تعاون نہیں کرتا وہ اس خطرہ میں ہے کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بے دینوں اور کافروں کی موت مرے۔پس میں آج پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کی روح پیدا کرو۔جب تک یہ روح زندہ رہے گی احمدیت زندہ رہے گی۔لیکن جب یہ روح مٹ گئی اور نشوز اور سرکشی کی عادت پیدا ہو گئی وہ دن اگر تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی سلسلہ کے خاتمہ کا من دن ہو گا تو تم اس کا گلا گھونٹنے والے ہوگے۔لیکن اگر وہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سلسلہ کے خاتمہ کا نہ ہو گا تو اللہ تعالی کے ہاتھ تمہارا گلا گھونٹ دیں گے۔دوسری بات جس کے متعلق میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں نے پچھلے دنوں بعض تحریکات کی تھیں اور اُن کے متعلق جماعت کی حالت کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس حد تک جماعت نے قربانی کا عزم کیا تھا شاید عزم کی آخری حد پہنچ گئی ہے۔ان تحریکات کے جواب میں رفتار بہت سست ہے اور جوں کی چال چلی جا رہی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا جسم تھکے ہوئے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ جب ایک شخص فیصلہ کر لیتا ہے ہے کہ میں فلاں جگہ تک چلوں گا جب وہ جگہ آجاتی ہے تو اُس کی رفتار میں شستی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر یہی چیز ہماری راہنمائی کا موجب بن سکتی ہے۔انتہائی قربانیوں کے مقام پر پہنچ جاناہی میں بتاتا ہے کہ اب ہمیں اپنے ارادے اور بلند کرنے چاہیں اور وہ وقت اب ہمارے لیے آگیا ہے۔اب ہمیں قربانیوں کے متعلق اپنے معیار کو اور بلند کرنا ہو گا۔اب بار بار قربانی ہوگی۔جانوں کی بھی اور اموال کی بھی۔بے شک جماعت نے بہت قربانی کی ہے۔ایسی قربانی کہ جس کی مثال اور کسی قوم میں نہیں مل سکتی۔مگر اب وقت ایسا آگیا ہے کہ ہمیں قربانیوں کے معیار میں کو اور بلند کرنا پڑے گا۔بعض ایسے کام شروع کیے گئے ہیں کہ لاکھوں کا خرچ بڑھ گیا ہے۔میرا خیال ہے کہ اس سال چار پانچ لاکھ روپیہ کا خرچ بڑھ گیا ہے۔کالج جاری کر دیا گیا ہے، سائنس انسٹی ٹیوٹ بھی کھولی جارہی ہے۔کالج کے سلسلہ میں بلڈ نگ وغیرہ کی بھی ضرورت ہے اور ان سب کے لیے چار پانچ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہو گی۔اس کے یہ معنے نہیں کہ جماعت پر زائد بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قربانیوں کے پہلے معیار سے